The news is by your side.

Advertisement

رنگ بدلنے والے ٹیٹو امراض کی تشخیص میں مددگار

بعض افراد کو اپنے جسم پر مختلف اقسام اور رنگوں کے ٹیٹوز بنوانے کا شوق ہوتا ہے۔ اب اسی شوق کو ماہرین نے ایک اہم طبی پیش رفت کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کے طبی ماہرین نے ٹیٹو کے لیے استعمال ہونے والی ایسی سیاہی تیار کی ہے جو جسمانی صحت کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گی۔

یہ سیاہی جسم میں موجود کیمیکلز اور خلیات اور ٹشوز میں موجود مائع میں تبدیلی پر اپنا رد عمل دے گی۔ اس سیاہی سے بنا ہوا ٹیٹو اس وقت اپنا رنگ تبدیل کرلے گا جب خون میں شوگر، سوڈیم اور پی ایچ کی سطح کم یا زیادہ ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر اگر خون میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوجائے گی تو ٹیٹو میں موجود نیلا رنگ بھورا ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر جسم میں پانی کی کمی ہو تب بھی ٹیٹو کا رنگ تبدیل ہوجائے گا جو جسم میں پی ایچ کی سطح کو ظاہر کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار سے ایک نہایت عام مرض ذیابیطس کی تشخیص بے حد آسان ہوجائے گی۔

طبی ماہرین کے مطابق میڈیکل سائنس اور ٹیٹو آرٹ کو یکجا کرنے کے بعد یہ ٹیٹو میڈیکل ٹریکرز کے طور پر استعمال ہوں گے۔

گو کہ ابھی اس سیاہی کو عام نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین اس پر مزید تجربات کرنے اور اس پروجیکٹ کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں