The news is by your side.

Advertisement

چینی کورونا ویکسینز کا امتزاج، آزمائش کے بعد ماہرین نے اہم انکشاف کردیا

بیجنگ : چینی کمپنی کی تیار کردہ دو ویکسنز کے امتزاج کی آزمائش کے حوصلہ امزاء نتائج سے امید کی نئی کرن پیدا ہوگئی۔

چینی سائنس دانوں نے سائنو ویک اور کین سائنو ویکسین کی کے امتزاج کے آزمائشی مراحل مکمل کیے ہیں جس کے حیران کن نتائج سے پتہ چلا ہے کہ دو ویکسینز کے امتزاج سے زیادہ طاقتور مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سائنو ویک کی ایک یا دو خوراکیں لگانے کے بعد کین سائنو کی ایک بوسٹر ڈوز تین سے چھ ماہ بعد استعمال کی گئی تو 2 ہفتے بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی تعداد میں اوسطاً 78 فیصد اضافہ ہوا۔

اس کے مقابلے میں جن افراد کو سائنو ویک کی ویکسین ہی تیسری خوراک کے طور پر استعمال کرائی گئی ان میں اینٹی باڈیز میں اضافے کی شرح 15.2 گنا تھی۔

سائنو ویک کے بعد کین سائنو ویکسین کا بطور بوسٹر ڈوز استعمال کرانے سے اینٹی باڈیز کی سطح میں 25.7گنا اضافہ ہوا جبکہ سائنو ویک کی 2 خوراکوں سے 6.2 گنا اضافہ ہوا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس تحقیق میں 300 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی عمر 18 سے 59 سال کے درمیان تھی۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، فیورن یونیورسٹی، سائنو ویک اور دیگر چینی اداروں کی اس تحقیق میں کہا کہ سائنو ویک کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کے نمونوں میں ڈیلٹا کے خلاف وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈی سرگرمیوں کو 6 ماہ بعد دریافت نہیں کیا جاسکا۔

تحقیق میں یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی اینٹی باڈی سرگرمیاں بڑھنے سے ڈیلٹا سے بیمار ہونے سے لوگوں کو کس حد تک تحفظ ملتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں