The news is by your side.

Advertisement

کان کی صفائی کے وہ غلط طریقے جو بہرے پن کی بڑی وجہ ہیں

انسانی جسم کا ایک اہم عضو کان ہے۔ یہ ہمارے سَر کا وہ حصّہ ہے جس کی مدد سے ہم سنتے ہیں۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں، مگر کیا یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی صفائی کا غلط طریقہ ہمیں کس طرح سننے کی صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے۔ بہرے ہو جانے کے بعد زندگی کیسی تکلیف دہ ہو سکتی ہے اور کیا سماعت کا آلہ لگانے سے ہم پوری طرح سننے کے قابل ہو جاتے ہیں؟

ہم سے اکثر یہ نہیں جانتے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ کانوں میں کاٹن کی سلائی، پین، پینسل کی نوک یا کاغذ کی بتی بنا کراس کی مدد سے میل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسا اس وقت کرتے ہیں جب انھیں خارش یا کوئی درد محسوس ہو رہا ہو لیکن اکثر اس کے عادی ہوتے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی ناخن چباتا ہے یا پھر بار بار اپنے بالوں کو سیٹ کرتا رہتا ہے۔

ہم کانوں کے میل سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ اپناتے ہیں اس سے سماعت کو نقصان پہنچتا ہے اور رفتہ رفتہ سماعت ختم ہوتی جاتی ہے۔

طبی محققین کے مطابق غیرمحفوظ طریقے سے کان کی صفائی سے کان کے پردے اور چھوٹی و نازک ہڈیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں کان کے اندرونی حصے میں موجود رقیق سیال بہہ کر باہر آجاتا ہے۔ ایسے فرد کو چکر آسکتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ سماعت سے محروم ہو جاتا ہے۔

غیر محفوظ طریقے سے مراد ہیئر پن یا پین وغیرہ کی نوک سے صفائی ہے جس میں کان کی بیرونی جھلی زخمی ہوسکتی ہے اور یہ کان کے انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کان اپنی صفائی کا انتظام خود کرتا ہے۔ تاہم اس کے بیرونی حصّے اور اوپری جلد کو دھو کر اور ملائم کپڑے سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ محققین بتاتے ہیں کہ جب ہم کسی چیز کو چبانے کے لیے اپنے جبڑوں کو حرکت دیتے ہیں تو قدرتی طور پر گندگی یا میل کان کی نالی سے نکل کر بیرونی حصے کی طرف آجاتا ہے۔ اس کو نکالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جب یہ کان کے بیرونی حصے تک آجائے تو صاف کپڑے کے ٹکڑے کو گیلا کر کے اسے نکالا جاسکتا ہے۔

کاٹن کی سلائی سے کان کی صفائی ایک عام بات ہے اس سے مخصوص مواد کان کے اندر کی طرف لوٹ سکتا ہے اور وہاں جاکر انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ سلائی بھی کان کے پردے اور چھوٹی ہڈیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایک خاص مقدار میں کان میں پانی ڈال کر بھی میل صاف کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بعد کان کو اچھی طرح خشک کرنا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر اس میں انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے۔ روانہ کان کی صفائی کے لیے پانی ڈالنا بھی خطرناک ہے۔ ایسا صفائی کی ضرورت محسوس کرنے پر کیا جانا چاہیے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں