The news is by your side.

Advertisement

کانگو ہیلی کاپٹر حادثہ: آرمی کا باغیوں پر یو این ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام

کنشاسا : جمہوریہ کانگو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والی پاکستانی اور غیرملکی فوجیوں کی لاشیں گوما پہنچا دی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن ہیلی کاپٹر کانگو اور باغی گروپ ایم 23 کے درمیان جھڑپوں کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔

حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر میں چھ پاکستانی، ایک ایک سربین اور روسی فوجی اہلکار سوار تھے، جن کے جسد خاکی ریسکیو اہلکاروں نے سرچ آپریشن کے دوران برآمد کرکے ساحلی شہر گوما بھیجوا دئیے ہیں۔

اقوام متحدہ میں تعینات پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے چھ پاکستانیوں کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ شہید جوانوں نے جمہوریہ کانگو میں امن کے قیام کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق کانگو کی مسلح افواج (ایف اے آر ڈی سی) کی جانب سے جاری بیان میں باغی گروپ ایم 23 پر ہیلی کاپٹر مار گرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے تاہم انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے حادثے کا ذمہ دار کانگو آرمی کو قرار دیا ہے۔

کانگو کی مسلح افواج نے ساتھ افریقی ملک روانڈا پر باغی گروپ ایم 23 کی حمایت اور امداد کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا جس کی روانڈان افواج نے پیر کے روز تردید کردی تھی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ مشن نے ابھی تک ہیلی کاپٹر حادثے کی وجوہات شناخت نہیں کی ہے، یو این مشن کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کےلیے تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

یواین مشن کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 6 پاکستانی افسران سمیت 8 اہلکار شہید

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج کے ایوی ایشن یونٹ کے چھ اہلکار کانگو ہیلی کاپٹر ‘پوما’ حادثے میں شہید ہوگئے تھے، شہیدوں میں لیفٹیننٹ کرنل آصف، میجر سعد، معاون پائلٹ میجر فیضان علی، نائب صوبیدار سمیع اللہ خان، حوالدار محمد اسماعیل، کریو چیف محمد جمیل شامل ہیں۔

پاک فوج کے ایوی ایشن یونٹ کو اقوام متحدہ کے امن مشن پر سنہ 2011 میں تعینات کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں