منگل, مئی 28, 2024
اشتہار

محمد الفائد نے برطانوی شاہی خاندان پر کس سازش کا الزام عائد کیا؟

اشتہار

حیرت انگیز

بدھ 30 اگست کو 94 برس کی عمر میں جہانی فانی سے کوچ کرنے والے مصری ارب پتی محمد الفائد 26 برس قبل اس وقت عالمی خبروں کی زینت بنے تھے، جب انھوں نے اپنے بیٹے دودی الفائد اور لیڈی ڈیانا کی موت کا ذمہ دار برٹش اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیا تھا۔

اپنے حسن، باغی خیالات اور شاہی خاندان کے ساتھ اختلافات کے باعث دنیا بھر کے میڈیا میں شہرت حاصل کرنے والی برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا اور دودی الفائد کے افیئر کی خبریں عام ہو گئی تھیں، یہ 31 اگست 1997 کا دن تھا جب وہ دونوں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک انڈر پاس میں گزرتے ہوئے کار حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حادثے میں لیڈی ڈیانا کی ہلاکت پر پوری دنیا نے غم و اندوہ کا اظہار کیا، دوسری طرف دودی الفائد کو پہلی بار لوگوں نے پہچانا، اس حادثے نے ان کے والد محمد الفائد کے دل و دماغ پر اتنا شدید اثر مرتب کیا کہ وہ دنیا ہی سے کٹ گئے اور اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت گھر والوں کے ساتھ ہی غم میں گزارنے لگے، وہ کہتے تھے کہ دودی کی موت ان کے لیے سوہان روح ثابت ہوئی ہے۔

- Advertisement -

ڈیانا کے ساتھ کار حادثے میں جاں بحق ہونے والے دودی الفائد کے والد انتقال کر گئے

اس کے بعد محمد الفائد نے اپنے متعدد انٹرویوز میں کہا کہ دودی اور ڈیانا کی موت دراصل برطانوی شاہی خاندان کی سازش کی وجہ سے ہوئی، وہ کھلے عام ان اموات کے لیے لیڈی ڈیانا کے سابق شوہر چارلس کو ذمہ دار قرار دیتے تھے۔

موجودہ برطانوی بادشاہ چارلس نے 1981 میں لیڈی ڈیانا سے اس وقت شادی کی تھی، جب وہ شہزادے تھے، یہ شادی 1996 تک چلی۔ محمد الفائد نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیانا ان کے پوتے کی ماں بننے والی تھیں، تاہم وہ اپنے ان دعوؤں کو کبھی ثابت نہ کر سکے۔

واضح رہے کہ ان کے بیٹے کی برسی 31 اگست کو ہوتی ہے، یوں اپنے بیٹے کی 26 ویں برسی سے ایک دن قبل ان کا انتقال ہوا ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں