The news is by your side.

حلف نامے کی تصدیق ، صحافی انصار عباسی اورسابق جج راناشمیم کے جوابات میں تضاد

اسلام آباد : حلف نامے کی تصدیق کیلئے رابطہ  کے  حوالے سے صحافی انصار عباسی اورسابق جج راناشمیم کے جوابات میں تضاد سامنے آگیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج راناشمیم کے بیان اور انصارعباسی کے تحریری جواب میں تضاد سامنے آگیا ، راناشمیم نے عدالت میں بیان میں کہا انصار عباسی کو خبر شائع ہونے کے بعد تصدیق کی تھی کہ حلف نامہ میرا ہے ، میں نے صحافی کو حلف نامہ نہیں دیامعلوم نہیں کہ یہ کیسے لیک ہوا۔

رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میرے پاس حلف نامہ موجود نہیں اسے برطانیہ سے منگوانا پڑےگا، لندن میں میرا حلف نامہ لاکرمیں میرے پوتے کے پاس محفوظ ہے۔

اس س قبل انصارعباسی نے تحریری جواب میں کہا تھا کہ خبر فائل کرنے سے پہلے راناشمیم سے ایفیڈیوڈ پر مؤقف لیا تھا۔

دوسری جانب اس حوالے سے اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج کی سماعت سے ایک چیز واضح ہے کہ توہین عدالت ہے ، راناشمیم نے کہا کہ لندن کے لاکر میں حلف نامہ پڑا ہے اور یہ بھی کہا کہ میرا حلف نامہ لیک ہوا ہے۔

اظہرصدیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ انصار عباسی کے اس ایفیڈیوڈ کب آیا، توہین عدالت ثابت ہوگی اور اس معاملے پر علیحدہ مقدمہ بھی درج ہوگا۔

ایڈووکیٹ نے کہا نوٹری پبلک نے بتایا کہ ایفیڈیوڈ نوازشریف کا ملازم وقار لیکر آیا تھا اور یہ بھی پتہ چلا کہ نوٹری پبلک کوحسین نوازکے دفتر میں بلاکر دستخط کرائے گئے۔

عدالت نے اصل بیان حلفی منگوایا ہے ، عدالت کے سامنے غلط بیانی پر دفعہ476 فور کےتحت کارروائی ہوگی۔

بظاہر بنیادی طورپر یہ بیان حلفی نوازشریف نے تیار کروایا ہے، عدلیہ کو پلاننگ کےتحت بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے، جو ایفیڈڈیو ہے وہ اس وقت سے متعلق ہے جب راناشمیم چیف جج تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں