The news is by your side.

Advertisement

ڈنمارک: امام مسجد پر یہودیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام

کوپن ہیگن : ڈنمارک کی یہودی برادری نے ایک امام مسجد پر یہودیوں کے قتل کے لیے اکسانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف شکایت درج کرادی۔

تفصیلات کےمطابق امام مُندھیر عبداللہ پر یہ الزام دارالحکومت کوپن ہیگن کے مضافاتی علاقے میں واقع مسجد الفاروق میں نماز جمعہ کے خطبے کی بنا پر عائد کیا گیا۔

واشگٹن میں واقع ’مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ نے تقریباً نصف گھنٹے کے اس خطبے کے بعض حصوں کا بعد میں ترجمہ کیا تھا۔

مندھیر عبداللہ نے اپنے خطبے کا آغاز اس طرح کیا کہ ’قیامت کا دن اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک مسلمان یہودیوں سے لڑ کر ان کا خاتمہ نہیں کردیتے‘۔

ڈنمارک میں یہودی برادری کے سربراہ ڈین روزین برگ آسموسین نے پولیس پر زور دیا کہ وہ امام کے خلاف نسلی نفرت پر اکسانے کے ممکنہ کی تحقیقات کا آغاز کرے۔


ڈنمارک:16سالہ لڑکی پریہودی اسکول پر’حملے‘ کا الزام


یاد رہےکہ 8مارچ 2016 کوڈنمارک میں 16 سالہ لڑکی پر یہودی اسکول سمیت دو دیگر اسکولوں کو دہشت گردی کے حملے میں مبینہ طور پر اڑانے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

واضح رہےکہ امیگریشن کے وزیر اِنگر ٹوجبَرگ نے امام مسجد کے خطبے کو خوفناک، غیر جمہوری اور قابل نفرت قرار دیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں