The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس : بل گیٹس نے امیر ممالک کو خوشخبری سنا دی

نیو یارک : مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ امیر ممالک میں زندگی 2021 کے آخر میں اس صورت میں معمول پر آجائے گی، اگر ایک کوویڈ 19 ویکسین مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ جلد تیار ہوکر بڑے پیمانے پر مناسب طریقے سے تقسیم ہوگئی۔

وال اسٹریٹ جرنل سی ای او کونسل سے خطاب میں بل گیٹس نے کہا کہ اگلے سال کے آخر تک صورتحال لگ بھگ معمول پر آسکتی ہے اور یہ بہترین منظرنامہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ابھی نہیں جانتے کہ کب تک یہ ویکسینز کامیاب ہوں گی جبکہ ان کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے بھی وقت درکار ہوگا اور امریکا اور دیگر ممالک میں ان کے کوٹے کو مختص کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔‎

مائیکرو سافٹ کے بانی نے کہا کہ ہم روس اور چین کے ساتھ بھی بات کررہے ہیں ان کی تیسرے مرحلے کے ٹرائل کی کسی بھی ویکیسینز کی نگرانی معتبر ریگولیٹرز نہیں کررہے۔

انہوں نے کہا کہ سائنسی نقطہ نظر سے روسی اور چینی ویکسینز مستند پراجیکٹس ہیں مگر قابل احترام تیسرے مرحلے کی تحقیق کے بغیر ان کی کشش روس اور چین سے باہر محدود ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کمپنیاں تیسرے مرحلے کی تحقیق میں زیادہ آگے ہیں اور اگر ان کے نتائج اچھے آتے ہیں اور کم قیمت میں انہیں پیش کیا جاتا ہے، تو مجھے نہیں لگا کہ روسی یا چینی ویکسینز ان ممالک سے باہر زیادہ فروخت ہوسکیں گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کون سے ممالک نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران صحت اور معیشت کی ضروریات کے توازن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کیونکہ اس وبا کے دوران آغاز میں تھوڑی ذہانت سے بہت بڑا فرق پیدا کرنے میں مدد ملی۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک میں اس وقت فیزر، بائیو این ٹیک اور آسترا زینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسینز ریگولیٹری منظوری کی دوڑ میں سرفہرست ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بھی 6 اکتوبر کو توقع ظاہر کی تھی کہ کوویڈ 19 کی روک تھام کے لیے ایک ویکسین رواں سال کے آخر تک تیار ہوسکتی ہے۔

بل گیٹس کے ادارے بل اینڈ ملینڈا گیٹس نے گزشتہ ماہ 16 فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ایاک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
بل گیٹس کے مطبق یہ معاہدہ بے نظیر رفتار سے ویکسین کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کے عزم کا حصہ ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ منظور شدہ ویکسینز جس حد تک جلد ممکن ہو، بڑے پیمانے پر تقسیم ہوسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں