The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن میں برطانوی خواتین کا ایک اور ہنر سامنے آگیا

برطانیہ میں جب کورونا وبا نے پنجے گاڑے اور لاک ڈاؤن نے لوگوں کو گھروں میں مقید کیا تو گھر میں بیٹھی خواتین نے سلائی کڑھائی شروع کردی۔

سلائی  کڑھائی اور خواتین کا نام ذہن میں آتے ہی مشرقی خواتین ذہن میں آتی ہیں جو نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ گھروں میں بھی اپنا ہنر آزماتی ہیں اکثر خواتین خاندان میں مالی معاونت کیلیے یہ کام کرتی ہیں تو کئی خواتین کو اپنے ہاتھ کے سلے ہوئے کپڑے پہننا ہی اچھے لگتے ہیں۔

لیکن ہم بات کریں یورپی اور مغربی ممالک کی تو وہاں  گھروں میں کپڑوں کی سلائی کا  رجحان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کورونا وبا نے جب لوگوں کو گھروں میں قید کیا تو برطانوی خواتین نے  اپنی مصروفیت سلائی کڑھائی جیسے کام میں ڈھونڈ لی۔

کئی برطانوی خواتین بالخصوص نوعمر لڑکیاں جو ریڈی میڈ کپڑوں کی دلداہ تھیں جب سلائی مشین پر بیٹھیں تو اپنے ہاتھ سے سلے کپڑوں کا ایسا چسکا لگا کہ انہوں نے ریڈی میڈ کپڑوں کی خریداری ہی ترک کردی۔

ایسی ہی ایک طالبہ لیا بیکر ہے جس نے لاک ڈاؤن کے فارغ وقت میں بوریت دور کرنے کیلیے چھوٹے بیگ بنانا شروع کیے جس کے بعد آہستہ آہستہ کپڑوں کی سلائی شروع کردی۔

اس حوالے سے لیا نے بتایا کہ جب سلائی شروع کی تو مجھے اچھا لگا کیونکہ میرا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اب پہننے کے لیے تیار کپڑے نہیں خریدوں کیونکہ میں نت نئے فیشن کو سپورٹ نہیں کرتی اور میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ مجھے کپڑے اچھی طرح فٹ آئیں۔

دوسری جانب برطانوی خواتین میں گھروں میں سلائی کے بڑھتے رجحان پر ڈیزائنر تارا ویگو نے کہا کہ سلائی کڑھائی کو پہلے پرانا اور محض وقت گزارنے کا مشغلہ سمجھا جاتا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی نے بہت سے لوگوں کیلیے اسے کرنا ممکن بنا دیا ہے۔

تارا ویگو نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں خواتین گھر میں بنائے گئے کپڑوں کے ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزائن شیئر کرتی ہیں جو گھر بیٹھے سلائی کڑھائی کے بڑھتے ٹرینڈ کی عکاسی کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں