The news is by your side.

Advertisement

قصور وار سب ہیں!

تحریر: محمد شعیب یار خان

تم وہی ہو جو زمین پر خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھے اور آج ایک وائرس کے سبب گھروں میں محصور ہو۔

خود کو سپر پاور‌ سمجھنے اور کہلوانے کے خبط میں مبتلا بھی اپنی جان بچانے کی فکر میں ہیں۔ تم نے سرکشی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، مگر آج اپنی تمام تر دنیاوی طاقت، وسائل اور اختیارات کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہو کہ ایسا کیا ہوا جس نے سب کچھ تہس نہس کردیا۔

ایک وائرس نے گویا پھر پتھروں کے دور میں پھینک دیا ہے جہاں نہ کوئی سائنس کام آرہی ہے، نہ جوڑے اور جمع کیے گئے وسائل اور وہ ترقی جس کے لیے تم نے نہ جانے کتنے معصوموں کا خون بہایا، اقوام پر جبر کیا، ملکوں پر قبضے کیے۔

اب تو ہر طرف اپنے بقا کی جنگ ہے جو چیخ چیخ کر پوچھتی ہے کہ زمین پر ظلم ڈھاکر، اسے لہولہان کر کے تم آج کہاں کھڑے ہو، کہاں گئے تمھارے کائنات کو تسخیر کرنے کے دعوے۔

دنیا بھر میں انسانوں سے ان کی آزادی کا حق چھیننے اور ان پر من مانے فیصلے مسلط کرنے والو کیا تمھیں کبھی یہ خیال آیا تھا کہ تم ایک معمولی وائرس کی مار ہو؟

قصور یہ نہیں کہ تم نے کائنات کے رازوں سے پردے اٹھانے کی جسارت کی، ماجرا کچھ یوں ہے کہ تم نے اپنی طاقت کا استعمال انسانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا۔

تم نے بچے دیکھے نہ جوان، مائیں دیکھیں نہ بوڑھے۔ بس ایک نشہ تھا طاقت کا جس کا غلیط اور مکروہ طریقے سے استعمال کرتے رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رب نے تمھیں بہت کچھ دیا اور اپنی اس کائنات کی وسعتوں میں تمھاری جستجو، تمھاری محنت اور علم کی بنیاد پر کھوجتے رہنے کو قبول کیا اور پھر ہر وہ موقع دیا کہ تم انسانیت کی فلاح اور خیر خواہی کے لیے اپنا کردار ادا کرو، مگر تم نے سرکشی کی تمام حدیں پار کردیں۔

قصور وار سب ہیں۔ وہ بھی جو تمھارے ظلم و ستم پر خاموش رہے۔ بہت سوں نے تو اپنوں پر ظلم کرنے میں تمھارا ساتھ دیا۔ خیر کو چھوڑ دیا اور بدی اور شَر کے ہاتھ مضبوط کیے۔

ناپ تول میں کمی، ذخیرہ اندوزی، یتیم کا مال کھانے، سوالی کو دھتکارنے، بھائی کا حق چھین لینے، ناانصافی، بددیانتی، خیانت سے لے کر ہر وہ گناہ، ہر ظلم کیا جس سے بچتے رہنے کا حکم تھا۔

دیکھا جائے تو یہ مرض نہیں درس ہے۔ اس سے سبق حاصل کر کے ہی پوری دنیا کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں