The news is by your side.

Advertisement

گھنٹی نہیں بجتی، کنڈی نہیں کھلتی، کوئی مانوس آواز سنائی نہیں دیتی….

شہناز احد

میں آخری بار کئی دن پہلے گھر سے باہر گئی تھی۔ میں سوچ رہی ہوں، کیا باہر سب کچھ ویسا ہی ہے؟

روز سویرے سورج بھی نکلا ہوتا ہے، ہوا اور درخت بھی ہوا کے سنگ جھوم رہے ہوتے ہیں۔ چڑیاں بھی چہچہا رہی ہوتی ہیں۔ رزق کی تلاش میں کائیں کائیں کرتے کرتے کوے، دور آسمان پر دائروں کی شکل میں چیلیں بھی گھوم رہی ہوتی ہیں۔ کوئی جھونکا بہار کے تازہ کھلے پھولوں کی باس سے بھرا بھی ہوتا ہے۔

ہر سال کی طرح بیا اور بلبل کا جوڑا گیلری میں رکھے گملوں اور بیلوں میں اپنے آشیانے کا پلاٹ بھی تلاش کررہا ہوتا ہے۔ پارکنگ لاٹ میں کھڑی گاڑیوں کے نیچے بلیاں اور ان کے بچے بھی آنکھ مچولی کھیل رہے ہوتے ہیں۔

وقفے وقفے سے ادھیڑ عمر، عمر رسیدہ افراد اب گروپوں سے الگ تنہا واک کررہے ہوتے ہیں۔ غلطی سے کسی سے آنکھ چار ہو جائے تو وہ آداب کا پتھر مارتا ہوا آگے کو لپک جاتا ہے۔ جیسے اسے کسی بات کا خوف ہو۔

ایسا ہی ایک بے نام سا خوف میرے اندر بھی ہے کہ….. دن بیت جاتا ہے، سورج ڈھل کر ایک جانب سے دوسری جانب چلا جاتا ہے، دروازے کی کنڈی نہیں کھلتی، بیل نہیں بجتی، کوئی مانوس انسانی آواز نہیں آتی۔

آواز کی خواہش میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد ٹی وی کھولتی ہوں اور گھبرا کر بند کر دیتی ہوں۔ میرے کان ترس گئے ہیں۔

کسی خوش بُو لہجے، رس گھولتی آواز، امید دلاتی بات کے لیے۔ آج مہینے سے اوپر ہو چلا ہے کہ ساری گاڑیاں جیسے پتھر کی ہوگئی ہیں۔ کسی گاڑی کا ہارن نہیں بج رہا۔ کوئی ڈرائیور زور زور سے بولتے ہوئے گاڑی صاف نہیں کرتا۔ کوئی بچوں کے بیگ تھامے بھاگتا نظر نہیں آتا۔ کسی مچھلی اور سبزی والے کی آواز نہیں آتی۔ بلند آواز میں بولتی جوتیاں گھس گھس کر چلتی ماسیاں نظر نہیں آتیں۔ گاڑیوں کی جانب لپکتے، ٹائیوں کی گرہ درست کرتے انسان نظر نہیں آتے۔ سڑک پر کھیلنے والے تمام بچے جانے کن کمروں میں بند ہیں۔

میں گھبرا کر سوچتی ہوں، یہ سب کچھ کب پہلے جیسا ہوگا۔ میرے اندر کچھ ٹوٹتا ہے، کوئی جواب نہیں‌ آتا، ایسا لگتا ہے میں چلتے ہوئے مُردوں کے قبرستان میں کھڑی ہوں۔ مجھے رات میں نیند نہیں آتی۔ میرے کان شور مچاتے، ان سائرنوں کی آواز کو ترس گئے ہیں جو زندگی کو اپنی گود میں سمیٹے ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہوتے تھے۔

نجانے وہ پٹاخے، دھماکے کہاں سو گئے جو رات کے کسی بھی پہر مسرت کا اظہار کرنے لگتے تھے۔ رات کو جب کسی کی بارات آتی تھی اس وقت۔

رات کے سناٹے میں کراچی کی شاہراہِ فیصل پر رواں دواں ٹریفک کی ساں ساں کرتی آواز بھی جانے کہاں گم ہوگئی ہے۔ رات گئے مختلف گھروں سے باتوں، قہقہوں اور ٹی وی پروگراموں کی آوازیں بھی خاموش ہیں۔

یہ آوازیں اب کب سنائی دیں گی؟ میں سوچتی ہوں۔ مگر مجھے جواب نہیں ملتا۔

میں نے کئی دنوں سے سڑک کی شکل نہیں دیکھی، تصور کی آنکھ کھول کر بار بار آنکھوں کو پٹپٹاتی ہوں اور ان مناظر کو زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں جنھیں دیکھ دیکھ کر میری جاگتی آنکھیں تھک چکی تھیں۔

وہ امراضِ قلب کے اسپتال سے نکلتی ایمبولینس، ان میں آنسو پونچھتے مرد و زن، اسی دروازے سے سائرن بجاتی داخل ہونے والی دوسری ایمبولینس، اور اس میں سوار فق چہرے، دروازے سے اندر، باہر آتا جاتا لوگوں کا ہجوم۔
کیا وہاں آج بھی یہ منظر ہے، اگر نہیں تو وہ سارے لوگ کہاں گئے، ان کے دلوں نے دھڑکنا بند کردیا کیا؟

اس کے سامنے وہ بچوں کا اسپتال۔ اس کے آگے عورتوں کا جمِ غفیر، جس کے گیٹ پر ہر لمحے میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ اسی میلے میں اکثر و بیش تر کوئی باپ اپنے نومولود کی لاش ہاتوں پر لیے بھی کھڑا ہوتا ہے۔ کیا وہاں آج بھی یہ منظر دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر نہیں تو وہ سب کہاں گئے؟

لوگوں کے اسی ہجوم میں سستے میک اپ سے لیپا پوتی کیے چہروں اور جھلمل کرتے لباسوں میں ملبوس نوعمر لڑکیوں کے گروہ۔ وہ سفید کوٹ والے مستقبل کے مسیحا۔ میں خود سے پوچھتی ہوں، کیا باہر آج بھی یہ منظر ہوگا؟

اوہ… میں تو بھول ہی گئی تھی، قانون کے ان رکھوالوں کو جو ہر شام سڑک کے کونے پر ناکہ لگا کر کھڑے ہوتے ہیں۔

یہی سب سوچتے سوچتے میں اپنے کمرے میں آ گئی ہوں۔ دیوار کے ساتھ لگی کتابوں سے بھری الماری مجھے مسکراتی لگی جیسے پوچھ رہی ہو یہ کتب جو تم نے فرصت کے دنوں کے لیے جمع کی ہیں، لگتا ہے اب کبھی نہ پڑھ پاؤ گی۔ اسی کے نچلے حصے میں میری ذاتی اور کچھ دفتری فائلیں منہ کھولے مجھے تک رہی ہیں، ڈریسنگ پر میرے پسندیدہ پرفیوم پوچھ رہے ہیں، کیا تم ہمیں استعمال کرو گی؟……کب؟

میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھتی ہوں اور خود سے سوال کرتی ہوں…. کیا اب کبھی ایسا نہ ہوگا کہ میں آرٹس کونسل جاکر ایک اچھا تھیٹر دیکھو سکوں، وہ شہر کے مختلف مقامات پر سجنے والے اردو زبان اور کتابوں کے میلے، کیا میں اب کبھی ان سے محظوظ نہ ہو سکوں گی؟

سوچوں کی گلیوں میں چلتے چلتے میں بہت آگے نکل گئی تو لگا نمکو کارنر کے سموسے مجھے تَک رہے ہیں، لیکن میں ان تک نہیں پہنچ پارہی، چٹخارے ہاؤس کی چاٹ مجھے پکار رہی ہے۔ مگر کیسے جاؤں، کیا کروں؟

کرنا تو بہت کچھ ہے، بہت سے کام ہیں جو ادھورے پڑے ہیں…اور وہ سب کے سب ضروری کام ہیں۔

اوہ خدایا یہ سوچیں…. ماں کی قبر کے اطراف کو پکا کروانا ہے۔ میں سوچتی ہوں اور سوچے جارہی ہوں۔ میرے اندر کچھ ٹوٹ رہا ہے، مگر کوئی جواب نہیں مل رہا۔

مجھے لگتا ہے میں ایک گنبد میں بند ہوں، ایسا گنبد جس کی نہ کوئی راہ داری ہے، نہ کھڑکی، نہ روشن دان۔
اور ایک میں ہی نہیں ساری دنیا گنبد میں بند ہے۔ جس میں ہماری آوازیں گونج رہی ہیں اور ہماری ہی طرف واپس آرہی ہیں۔

دروازے کی بیل مجھے زندہ ہونے کی نوید دیتی ہے….. شاید زندگی ہے۔ دروازہ کھولتی ہوں….. کوڑے والا ہے!
دروازے سے لے کر بالٹی تک سب پر جراثیم کُش اسپرے کرتی ہوں۔

واپس کمرے میں آتی ہوں، بیس سکینڈ تک ہاتھ دھونے کے بعد پھر سوچتی ہوں کہ میں اتنا کیوں سوچ رہی ہوں؟
پھر کوئی جواب نہیں آتا۔

کوئی ہے جو بتائے زندگی دوبارہ کب جیے گی؟ اس سکرات کا دورانیہ کتنا ہے؟

کیا کوئی وینٹ ہے جو سانسوں اور سوچوں کی آمدو رفت کو آسان بنا دے۔ میرے اندر پھر کچھ ٹوٹ رہا ہے، کچھ لرزاں ہے، جواب نہیں آتا۔

(شہناز احد صحافتی و سماجی تنظیموں سے وابستہ اور کڈنی فاؤنڈیشن آف پاکستان کی عہدے دار ہیں، آپ سماجی مسائل اور خاص طور پر صحتِ عامہ سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں