The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس 5G سازشی تھیوری، انجینئرز پر بھی حملے شروع

مانچسٹر: کرونا وائرس کی وبا 5G ٹیکنالوجی سے پھیلی ہے، اس سازشی تھیوری پر یقین کرنے والوں نے برٹش ٹیلی کام کے انجینئرز پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تصور نے برطانوی ٹیلی کام انجینئرز کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے، اب تک 39 انجینئرز پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

برٹش ٹیلی کام کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر نے میڈیا کو بتایا کہ حملوں میں انجینئرز کو جنسی تشدد اور بد اخلاقی کا نشانہ بنایا گیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل فائیو جی سازشی تھیوری کے تحت موبائل ٹاورز پر بھی حملے کیے گئے ہیں، اب تک 33 ٹاورز ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں جن میں سے برٹش ٹیلی کام کے 11 ٹاورز کو بھی نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

فائیو جی ٹیکنالوجی سے خائف برطانویوں نے مزید 20 ٹاورز تباہ کر دیے

چیف ایگزیکٹو بی ٹی فلپ جانسن کا مطالبہ تھا کہ اس سازشی تھیوری کو اب روکا جائے، ہمارے انجینئرز کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور مجھے ان کی فکر ہے، برٹش ٹیلی کام کے جن ٹاورز کو نقصان پہنچایا گیا وہ 5G ٹاور تھے ہی نہیں، کرونا وائرس کے پیچھے 5G کی تھیوری بے بنیاد ہے۔

فلپ جانسن کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کا فائیو جی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بہت سے کھمبوں پر لوگوں کی طرف سے خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں تا کہ ہمارے انجینئرز ان پر نہ جا سکیں، جب کہ وہ لینڈ لائن ٹیلی فون سسٹم کے کھمبے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں فائیو جی ٹاورز پر حملوں کے بعد عالمی ادارہ صحت نے بھی اس سازشی تھیوری کو رد کیا ہے، ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس ریڈیو شعاعوں کے ذریعے نہیں پھیلتا۔ یاد رہے کہ برٹش ٹیلی کام کے چیف ایگزیکٹو فلپ جانسن خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں