The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، ماہرین کا شہریوں‌ کو چشمہ اور لینس لگانے کا مشورہ

نیویارک: امریکا کے تحقیقی ماہرین نے کہا ہے کہ چشمہ اور کانیٹیکٹ لینس کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

امریکا کے ماہرین نے کرونا کی روک تھام کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات اور بچاؤ کے حوالے سے تحقیقی مطالعہ کیا جس میں انہوں نے ماسک، دستانے پہننے اور جسم کو ڈھانپنے پر غور کیا۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس آنکھوں کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہوسکتا ہے لہذا آنکھوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

ماہرین کے مطابق چشمہ یا لینس پہننے سے بھی انسان کرونا وائرس سے محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں آنکھوں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہیں۔

مزید پڑھیں:کروناوائرس کتنا بھیانک ثابت ہوسکتا ہے؟ طبی ماہر نے خبردار کردیا

تحقیقی ماہرین نے مشورہ دیا کہ چشمہ یا لینس پہننے کے بعد انہیں جراثیم کش صابن یا کسی محلول سے اچھی طرح دھونا بھی ضروری ہے۔

ٹیم کی سربراہ اور امریکن اکیڈمی آف اوپتھامولوجی کی ترجمان ڈاکٹر سونال تولی کا کہنا تھا کہ ’ہر شخص مہلک وبا سے محفوظ رہنے کا خواہش مند ہے، وہ اس حوالے سے اپنی سوچ اور معلومات کے مطابق احتیاطی تدابیر بھی اختیار کررہا ہے تاکہ کرونا سے متاثر ہونے کا خطرہ کم سے کم ہو‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اپنے ہاتھ دھوئیں اور منہ یا ناک پر ہاتھ لگائے بغیر لینس لگا لیں، یہ آپ کی آنکھوں کو وائرس کے حملے سے محفوظ رکھیں گے، اگر آپ چشمہ لگاتے ہیں تو اسے بھی روزانہ صاف کر کے یا صابن سے دھو کر استعمال کریں تو وائرس کے خطرات کم ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا کی علامت، سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوجاتی ہے، تحقیق

تحقیقی ٹیم میں شامل گلیس ایڈمونڈس کا کہنا تھا کہ ’اس بات کو یقینی بنائیں کہ چشمے کے وہ حصہ جو ناک پر لگتا ہے اُسے لازمی دھوئیں اور پھر اسےکسی کپڑے سے خشک بھی کریں‘۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر کوئی شخص کرونا سے متاثر ہوا یا اُس کو علامات ظاہر ہوئیں تو وہ چشمہ لگانے اور لینس پہننے سے کم از کم چوبیس گھنٹے اجتناب کرے، یعنی ایک بار جو چشمہ یا لینس استعمال ہو اُسے چوبیس گھنٹے بھی ہی لگائے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں