site
stats
بزنس

کپاس کی قیمت میں اضافہ، ٹیکسٹائل سیکٹر کے شرح منافع میں کمی

کراچی: ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشکلات کم نہ ہوئیں کپاس تو مہنگا ہوگی مگر یارن کی قیمت نہ بڑھی جس کے باعث صنعتوں کی شرح منافع میں کمی واقع ہوگئی۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں کپاس کی قیمت پانچ فیصد تک بڑھ چکی ہے،کپاس کی قیمت اٹھتر سینٹ فی پاونڈ سے بھی تجاوز کرچکی ہے،جو جولائی 2014ءکے بعد بلند ترین قیمت ہے۔

گزشتہ آٹھ ماہ سے یارن کی قیمتیں جمود کا شکار ہیں، خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے صنعتوں کے منافع میں کمی ہورہی ہے۔

مارکیٹ میں روئی کی فی من قیمت 6 ہزار 2 سو روپے ہو گئی،جو دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔چین کی طرف سے پاکستان اور دوسرے ممالک سے سوتی دھاگے کی خریداری دوبارہ شروع کر دی گئی، جس کے باعث بھارت، امریکا اور چین میں روئی کی قیمت تقریبا سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

چئیرمین کاٹن جینرز فورم احسان الحق کے مطابق دنیا بھرمیں کپاس کے زیر کاشت رقبے میں کمی اور روئی کی کھپت زیادہ ہونے کی رپورٹس نے بھی مارکیٹ میں غیر معمولی طور پر تیزی کا رجحان پیدا کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top