The news is by your side.

Advertisement

بہتر پالیسی نہ ہونے سے کپاس کی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے: چیئرمین کاٹن ایسوسی ایشن

اسلام آباد: کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بہتر پالیسی نہ ہونے سے کپاس کی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے، کپاس کی درآمدات کے باعث بھاری زر مبادلہ بیرون ممالک جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ ہمارے کاٹن زونز میں شوگر ملز لگانے پر زیادہ زور لگا، گنے کی کاشت کی وجہ سے کپاس کی کاشت میں کمی ہوئی۔

احسان الحق کا کہنا ہے کہ بہتر پالیسی نہ ہونے سے کپاس کی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے، کپاس کی درآمدات کے باعث بھاری زر مبادلہ بیرون ممالک جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس اور فنڈز نہ ملنے کے باعث بھی کپاس کی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے سے ٹیکسٹائل سیکٹرز کو مسائل ہیں۔احسان الحق نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹرز کے لیے بیل آؤٹ پیکج ہونا چاہیئے۔

واضح رہے کہ رواں سیزن ملکی کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، رواں برس ہونے والی کپاس کی پیداوار گزشتہ سیزن سے 8 لاکھ بیلز کم رہی۔

رواں برس ہونے والی کپاس کی پیداوار کا حجم 1 کروڑ 6 لاکھ بیلز رہا جب کہ گزشتہ سیزن میں کپاس کی پیداوار کا حجم 1 کروڑ 14 لاکھ بیلز سے زائد رہا تھا۔

موجوہ حکومت نے اپنے پہلے ہی سال میں کپاس کی درآمدات پر ٹیکس چھوٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل پہلی بار کاشت کاروں کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔

اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کپاس ملک کی سب سے زیادہ نقد آور فصل ہے۔ کپاس کا پیداواری ہدف 2 کروڑ گانٹھ مقرر کیا گیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں