The news is by your side.

Advertisement

اصغر خان فیصلہ کیس: عدالت کا سامنے آنے والے اہم سوالات پر حکومت کو مؤقف پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغر خان فیصلے پر عمل در آمد کیس میں ایف آئی اے نے سر بہ مہر تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ اصغر خان فیصلے پر عمل در آمد کیس میں کئی اہم سوالات سامنے آ گئے ہیں، حکومت ان سوالات پر اپنا مؤقف پیش کرے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں اصغر خان فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آ ئی اے کی جانب سے سر بہ مہر تفصیلی رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے، جب کہ ججز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے آ رمی افسران کا معاملہ آرمی ایکٹ کے تحت ریفر کرنے کا حکم دیا تھا، اب کیس میں کئی اہم سوالات سامنے آئے ہیں، حکومت ان پر اپنا مؤقف پیش کرے۔

مزید تازہ خبریں پڑھیں:  عدالت کا ایف آئی اے، پی ٹی اے کو گستاخانہ مواد میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کا حکم

سماعت کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 25 ستمبر کا ایک حکم نامہ موجود ہے، کیا سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ کیس ملٹری حکام کو بھیجا گیا؟ اگر ہاں تو کیس کس تاریخ کو بھیجا گیا اس کی تفصیل فراہم کی جائے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت کیس بھیجا گیا یا نہیں، اگر ایک معاملے میں کیس آرمی ایکٹ کے تحت چل رہا ہو تو کیا سویلین پر بھی یہ ہی قانون لاگو ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ممکن ہے اس کیس کا یہ ہی حل ہو۔

اصغر خان کے اہل خانہ کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت آ رمی افسران کے خلاف کیس چلنے کی تفصیلات بھی طلب کرے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے معلومات تو آنے دیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں