The news is by your side.

شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد : پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم

اسلام آباد : عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شہباز گِل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی استدعا معطل کر دی۔

جج راجہ فرخ علی خان نے کہا شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ ابھی شروع ہی نہیں ہوا، شہباز گِل کے وکلاء کے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کی استدعا مسترد کرتا ہوں۔

عدالت نے شہباز گِل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا شہباز گِل کی صحت ٹھیک نہیں انکو ہسپتال منتقل کیا جائے اور تفصیلی چیک اپ کرایا جائے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کو پیر تک پمز میں رکھنے اور دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دیا۔

عدالت نے شہباز گل کی پیر تک دوبارہ میڈیکل رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا۔

اس سے قبل اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

شہباز گل کو ایمبولینس میں عدالت پہنچایا گیا، شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل نے بتایا کہ باہر پولیس ایسے کھڑی ہے، جیسے کوئی بڑا دہشت گرد پیش ہو رہا ہے، شہباز گل بیمار ہے۔

جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ شعیب شاہین آدھے گھنٹے تک پہنچ جائیں گے، وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ ْجی9 بج کر 15 منٹ تک پہنچ جائیں گے۔

جج نے نائب کورٹ کو ہدایت کی کہ پولیس کوآگاہ کر دیں ملزم کو سوا 9بجےپیش کیا جائے۔

فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل کےپھیپھڑے متاثرہیں اور ان کو سانس لینے میں دشواری ہے، ابھی شہباز گل سے مل کرآرہاہوں انکو بہت زیادہ مشکل ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس ضدکررہی ہےکہ سیڑھیاں خودچڑھ کراوپرآئیں،وہ سیڑھیاں چڑھ کراوپرنہیں آسکتے، جس پر عدالت نے کہا ملزم کو تو اوپر لانا پڑے گا۔

عدالت نے پولیس کو شہبازگل کو اٹھا کر اوپرلانے کی ہدایت کی، جس کے بعد شہبازگل کووہیل چیئر پر بیٹھا کرڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

آکسیجن سلنڈر بھی عدالت میں پہنچا دیا گیا، پولیس نے شہباز گل کا مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا، جس پر عدالت نے سوال کیا کہ آپ شہباز گل کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہےہیں؟

عدالت نے استفسار کیا کیا پہلے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا آپ 8 دن کی درخواست کیوں لےآئے؟ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا یا نہیں؟ کیا پولیس 2 روز میں تفتیش کرسکی یا نہیں؟

عدالت نے سوال کیا کیا پولیس نیاریمانڈمانگ رہی ہےیاپہلےکی توسیع چاہتی ہے، کیا تکنیکی طور پر پہلا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ شروع ہی نہیں ہوا؟

فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہبازگل کی بیماری آپ نےدیکھ لی اس کاجینوئن معاملہ ہے ، میڈیکل رپورٹ سےبھی لگ رہاہےٹارچرکیا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس نےجوپرچہ ریمانڈدیااسکےمطابق بھی پولیس مان رہی ہے ریمانڈمکمل ہوچکا ، شہبازگل کااگرفزیکل ریمانڈدیاگیاتومیں سمجھتاہوں اس کیلئےلائف تھریٹ ہے۔

ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا گزشتہ روزکاآرڈرفیصل چوہدری نے عدالت میں پڑھا اور کہا پراسیکیوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ شہباز گل کووہ اسپتال میں رکھیں گے، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ جوایڈیشنل سیشن جج کاآرڈرتھامیں نے اس کو دیکھنا ہے۔

شہبازگل کے وکیل نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی۔

جس کے بعد پولیس پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پردلائل دیتے ہوئے کہا قانون میں نہیں لکھا کہ بیمارشخص کا ریمانڈ نہیں لیاجاسکتا، کسی بھی ملزم کی جان قیمتی ہوتی ہے، تفتیشی مکمل خیال رکھتا ہے۔

رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں جیل کےڈاکٹربھی موجودتھے، جیل ڈاکٹرنےعدالت کوبتایاجب ملزم لایاگیاتوکوئی مسئلہ نہ تھا،رپورٹ نارمل تھی، جس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا جیل ڈاکٹرنےایسی کوئی بات نہیں کی۔

رضوان عباسی نے وکیل فیصل چوہدری سے مکالمے میں کہا مجھے بات کر لینےدیں،ایسا نہ کریں، جوڈیشل مجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ آپ بات جاری رکھیں، آپ جواب بعد میں دے دیجئےگا۔

پولیس پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے بتایا شہبازگل کو مسئلہ اس وقت ہواجب عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر دینے کا فیصلہ کیا۔

دلائل کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان نے پولیس کی درخواست پر شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت نے کہا شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ پر آدھے گھنٹے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں