The news is by your side.

Advertisement

کیا سردیوں میں کرونا وائرس زیادہ خطرناک ہو جائے گا؟

کیلی فورنیا: سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی طبی ماہرین نے خبردار کر دیا ہے کہ کرونا وائرس اب زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

نیچر نامی جریدے میں شایع شدہ ایک مضمون کے مطابق انفلوئنزا اور کرونا وائرسز سمیت نظام تنفس کے امراض کا باعث بننے والے وائرسز کی شرح موسم سرما میں بڑھ جاتی ہے اور گرمیوں میں گھٹ جاتی ہے۔

کیلی فورنیا کی اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کے ڈیوڈ ریلمین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کو نئی جوانی ملنے والی ہے، ہمیں مشکل مہینوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا تواتر کے ساتھ کہنا ہے کہ موسم سرما میں کو وِڈ 19 کی وبا مزید بدتر ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کے بارے میں ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ بیماری موسمی صورت اختیار کرے گی یا نہیں۔

بعض ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ سردی میں لوگ زیادہ تر وقت بند گھروں میں گزارتے ہیں جہاں ہوا کی نکاسی کا نظام ناقص ہونے کی وجہ سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چناں چہ معمولی موسمی اثر کا نتیجہ بھی بڑا نکل سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی دوری اور فیس ماسک اس سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

شواہد کیا کہتے ہیں؟

وائرل انفیکشن کے موسمی رجحانات میں متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جیسا کہ لوگوں کا طرز عمل اور وائرس کی اپنی خصوصیات، کچھ وائرسز گرم اور مرطوب موسم کو پسند نہیں کرتے، نئے کرونا وائرس کے بارے میں لیبارٹری تجربات بتاتے ہیں کہ اس کے لیے سرد اور خشک موسم موزوں ہے۔

مثال کے طور پر مصنوعی الٹرا وائلٹ شعاعیں زمین اور ہوا میں موجود نئے کرونا وائرس کے ذرات کو غیر فعال کر سکتی ہیں۔ اسی طرح 40 سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور زیادہ مرطوب موسم میں متعدد وائرسز غیر فعال ہوتے ہیں۔ پرنسٹن یونی ورسٹی کے ماہر ڈیلن مورس کا کہنا ہے کہ سردیوں میں چاردیواری کے اندر کا ماحول وائرس کے استحکام کے لیے کافی موزوں ہوتا ہے۔

کرونا وائرس سے متعلق سائنس دانوں کا نیا انکشاف

اکتوبر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نئے کرونا وائرس کے اولین 4 ماہ کے دوران کیسز کی شرح کی جانچ پڑتال کی گئی تھی، تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسے مقامات پر کیسز کی شرح بہت تیزی سے بڑھی تھی جہاں سورج کی روشنی کم تھی۔

طبی ماہرین کی جانب سے تاحال کرونا وائرس کی وبا کے موسمیاتی رجحان کے اثرات پر کام جاری ہے۔

کرونا وائرس کا مستقبل

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیا کرونا وائرس (SARS-CoV-2) سرد موسم میں خود کو زیادہ بہتر طور سے بچا سکا تو لوگوں کے رویوں کے اثرات کی شناخت کرنا مزید مشکل ہو جائے گا، لندن اسکول آف ہائی جین کی ماہر کیتھلین اوریلی کا کہنا ہے کہ فلو سیکڑوں برس سے ہمارے ارگرد موجود ہے اور اس کا مخصوص میکنزم یعنی سردیوں میں وہ عروج پر کیوں ہوتا ہے، ابھی تک ٹھیک طرح سمجھا نہیں جا سکا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ موسمیاتی اثرات اس بیماری کے پھیلاؤ کے رجحانات کے حوالے سے اہم ہوں گے کیوں کہ زیادہ سے زیادہ افراد میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہو چکی ہوگی، اگر لوگوں کو ویکسین مل جاتی ہے تو اس میں 5 سال یا اس سے کچھ کم عرصہ لگ سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم جارج ٹاؤن یونی ورسٹی کے ماہر کولن کارلسن کا کہنا ہے کہ اس کا انحصار متعدد عناصر پر ہوگا جن کو ابھی سمجھنا باقی ہے، یعنی وائرس کے خلاف مدافعت کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے، کتنے عرصے میں لوگ اس بیماری سے صحت یاب ہوتے ہیں اور لوگوں میں ری انفیکشن کا امکان کتنا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں