The news is by your side.

Advertisement

گائے کسی کی ماتا نہیں، صرف ایک جانور ہے، سابق بھارتی چیف جسٹس

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ ساری دنیا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے مگر بھارت میں صرف اسے ماتا بنا دیا گیا۔

دھیرا دھن لا کالج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے ہندو مذہب سے کھل کر اختلافات کا اظہار کیا۔ اپنی تقریر میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ابھی میں کیرالہ گیا تھا تو وہاں پر کھانے میں گائے کا گوشت کھایا کیونکہ دنیا بیف کھاتی ہے، میری نظر میں گائے گھوڑے اور کتے کی طرح جانور جیسا ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’گائے ایک جانور ہے مگر بھارتیوں کے دماغ میں اس کا بلاوجہ مقام بنا دیا گیا، اگر آپ کے پاس دماغ ہے تو  ذرا سوچیے کہ گائے کس طرح انسان کی ماتا کیسے ہوسکتی ہے؟‘۔ سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا ہے تو گائے کو ماتا ہی مانتے رہیں، بھارت میں مذہبی شدت پسندی اس حد تک بڑھ گئی کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ذات پات کی بات کرتے اور تعصب کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سابق بھارتی جج مسلمانوں کو نمازِ جمعہ سے روکنے پر ہندوؤں پر برس پڑے

بیف کا گوشت استعمال کرنے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھاکہ ’امریکا سمیت سارے بڑے ممالک میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے مگر یہاں پر ایسا تاثر بنایا گیا کہ لوگ نہیں کھاتے‘۔ بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’رام مندر بننے سے کیا بھارت میں بے روزگاری ختم ہوجائے گی؟ بچوں کی کم عمری میں شادی، کسانوں کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟، یہ سارے مسائل صرف لوک سبھا کے انتخابات کی وجہ سے اٹھائے جارہے ہیں‘۔

سابق چیف جسٹس نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہندو مذہبی کتابوں میں واضح طور پر لکھا ہے کہ رام خدا نہیں بلکہ ایک انسان تھے، اس بات کو ہندو مذہبی پیشواؤں سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ انسان کا مندر نہیں بنایا جاتا تو پھر رام مندر جیسا حساس معاملہ کیوں چھیڑا جاتا ہے؟‘۔ اس موقع پر مرکنڈے کاٹجو نے شرکا سے سوال کیا کہ اگر آپ کی لڑکی کسی ہندو دلت سے شادی کی خواہش کا اظہار کرے تو کیا آپ راضی ہوجائیں گے؟ یقیناً نہیں کیونکہ ہمارے دماغوں میں ایسی باتیں بیٹھا دی گئیں کہ ہم بیٹی کو قتل کردیں گے مگر ذات پات کو ضرور دیکھیں گے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں