گجرات اسمبلی میں گائے ذبح کرنے والے کو عمرقید کی سزا دینے کا قانون منظور -
The news is by your side.

Advertisement

گجرات اسمبلی میں گائے ذبح کرنے والے کو عمرقید کی سزا دینے کا قانون منظور

گجرات : بھارت میں انتہا پسند بے قابو ہوگئے ، اترپردیش میں گوشت کی دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اب گجرات میں گائے کے ذبیح پر عمرقید کی سزا کا قانون بن گیا۔

نام نہادسیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں انتہاپسندی کا راج ہے اور اب کالے قوانین کا نفاذ کردیا گیا ، نریندرمودی کی آبائی ریاست گجرات میں اب گائے ذبح کرنا جرم بن گیا، جوگائے ذبح کرے گا، اسے عمر بھر کے لئے جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔

گجرات کی اسمبلی نے گائے ذبح کرنے والے کو عمر قید کی سزا دینے کا قانون منظور کرلیا ہے، قید کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی بھرنا پڑے گا۔


مزید پڑھیں : بھارتی گجرات میں گائے ذبح کرنے پر عمر قید کی سزا تجویز


یاد رہے وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں گائے کے تحفظ کا قانون پہلے سے موجود ہے اور اس سے قبل ریاست گجرات میں ریاستی حکومت نے گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے ذبح کرنے والے کے لیے عمر قید کی سزا تجویز کی تھی۔

وزیر اعلیٰ وجے روپانی کا کہنا ہے کہ وہ اس ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کریں گے جس میں گائے ذبح کرنے یا گائے کا گوشت سپلائی کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا دینے اور اس کی گاڑی کو مستقل طور پر ضبط کر لینے کی تجویز پیش کی جائے گی۔


مزید پڑھیں : بھارت میں انتہا پسند بے قابو، گوشت کی دکانوں کو آگ لگا دی


خیال رہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے رہنما ادتیہ ناتھ نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی پوری ریاست میں گوشت کی دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دے دیا تھا، جس کے بعد سے  یوپی میں گوشت کی دکانیں اور مذبح خانے بند کرائے جارہے ہیں، جس سے مسلمانوں، دلتوں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد کا کاروباربری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ اتر پردیش میں انتہاپسند ہندو نے گوشت کی دکانوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے تھے اور ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی عائد تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں