The news is by your side.

Advertisement

ڈونلڈ ٹرمپ آزادی صحافت کیلئے خطرہ قرار

واشنگٹن : صحافیوں کی عالمی تنظیم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو آزادی صحافت کے لیےخطرہ قرار دے دیا ہے اور کہا کہ ٹرمپ کے منتخب ہونے کی صورت میں نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھرمیں صحافیوں کے حقوق خطرے میں پڑجائیں گے۔

کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت امریکا میں صحافت کی آزادی کے لیے خطرہ ہوگی، ٹرمپ کے منتخب ہونے کی صورت میں نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھرمیں صحافیوں کے حقوق خطرے میں پڑجائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ اور اعمال امریکی آئین کی پہلی ترمیم سےغداری ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا اگر اپنے آئین پرعمل درآمد نہ کراسکا تو دنیا بھر کے آمروں کو اپنے ملکوں میں میڈیا کی آواز دبانے کا موقع مل جائے گا۔

صحافی تنظیم سی پی جے نے اپنی پینتیس سال کی تاریخ میں پہلی بار ایسا بیان جاری کیا ہے۔


مزید پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کاسیاہ باب ہے،امریکی صدراوباما


امریکی صدر اوباما کا کہنا تھا کہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا سیاہ باب ہے، وہ امریکہ کے کمانڈران چیف بننے کے اہل نہیں ہیں اورنہ ہی دنیا کی عظیم جمہوریت کی سربراہی کے لائق ہیں۔

یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پارٹی کے سیبنئر حکام بیزار ہوگئے، ری پبلکن پارٹی کے اہم رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف کھلا خط تحریر کیا اور ان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔


مزید پڑھیں : واشنگٹن : 50ری پبلکن رہنماؤں کا ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف کھلا خط


خط میں لکھا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے بدترین اور خطرناک صدر ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ وہ امریکا کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا تھا۔


مزید پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کو کوریج کرنے سے روک دیا


واضح رہے کہ جون میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ پراپنی انتخابی مہم کے پروگرام کی کوریج کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا، ٹرمپ نے جانبداری کا الزام لگایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں