The news is by your side.

Advertisement

عید کی تعطیلات کے بعد کام میں دل نہیں لگ رہا؟

عید کی تعطیلات کے بعد بہت سے لوگ سست ہوگئے ہیں۔ انہیں اپنے کام دوبارہ سے شروع کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

اگر آپ بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں جنہیں عید کے بعد 8 گھنٹے کی نوکری دشوار معلوم ہورہی ہے تو آپ کے لیے اپنے جسم کو کام کی طرف مائل کرنے کی کچھ تجاویز دی جارہی ہیں۔


اپنے مقاصد کو یاد کریں

زندگی میں طے کیے ہوئے مقاصد کو پھر سے دہرائیں۔ ان کے نتائج اور ان سے ملنے والے فائدوں کو یاد کریں۔

ان احباب کا رویہ یاد کریں جو آپ کو صرف آپ کے اچھے وقت میں یاد رکھتے ہیں اور برے وقت میں بھول جاتے ہیں۔

یہ سوچیں آپ کو پھر سے کام کرنے اور کامیاب ہونے کی طرف متوجہ کریں گی۔


نیند پوری کریں

نیند پوری کرنا چاق و چوبند رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

اگر آپ کی نیند پوری نہیں ہوگی تو آپ بڑے سے بڑے فائدے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھا سکیں گے۔ کتنا ہی دلچسپ کام کیوں نہ ہو آپ اسے نہیں کرسکیں گے۔

یہ زیادہ ضروری اس لیے بھی ہے کیونکہ عید کی چھٹیوں میں آپ بہت گھومے پھرے ہوں گے اور اب تھکن کا شکار ہوں گے۔ اپنے مقررہ وقت سے جلدی سوئیں تاکہ آپ کی نیند پوری ہوسکے۔


غذا پر دھیان دیں

اپنے آپ کو جگانے کے لیے اضافی چائے کافی کا استعمال مت کریں۔ یہ آپ کو مزید تھکا دے گا۔ بھرپور ناشتہ کریں اور اتنی ہی چائے کافی استعمال کریں جتنی آپ رمضان سے قبل استعمال کرتے تھے۔

اور ہاں عید کے موقع پر مرغن غذائیں کھانے کے بعد اب وقت ہے کہ آپ ہلکی پھلکی اور سادہ غذائیں کھائیں اور پانی، سلاد اور پھلوں کا استعمال بڑھا دیں۔

مزید پڑھیں: عید کے دنوں میں پیٹ اور معدے کی تکلیف سے بچیں


ورزش کریں

ہلکی پھلکی ورزش آپ کے تھکے ہوئے جسم کو چاق و چوبند کر سکتی ہے۔ 15 منٹ کی چہل قدمی اس سلسلے میں نہایت مددگار ثابت ہوگی۔


پانی پئیں

پانی آپ کی کھوئی ہوئی توانائی کو بحال کرتا ہے۔ اکثر اوقات دن کے کسی وقت میں آپ تھکان محسوس کریں تو یہ ڈی ہائیڈریشن کی نشانی ہے۔ اس صورت میں ایک گلاس پانی بہترین دوا ثابت ہوسکتا ہے۔

تو ان تجاویز پر عمل کریں اور پھر سے دنیا فتح کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں