اسلام آباد : تجارتی خسارے میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا اور جاری کھاتوں کا حجم جی ڈی پی کا 5.7 فیصد ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق ن لیگ کی بد انتظامی کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا اور مالی سال 18 -2017 میں خسارہ 17 ارب 99 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
اسٹیٹ بینک سے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے سال بھر کے اعدادوشمار جاری کردیئے ، جس کے مطابق مالی سال 2017-18ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 18 ارب ڈالر منفی رہا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5.7 فیصد پر پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 4.1 فیصد رکھاگیا تھا، ماہانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی دیکھی گئی، جون میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 84 کروڑ ڈالر رہا جبکہ مئی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا مالی حجم دو ارب ڈالر رہا تھا۔
معاشی ماہرین کےمطابق خام تیل کی قیمت میں اضافے کے باعث ہر ماہ جاری کھاتوں کے خسارہ میں دس کروڑ ڈالر کا اضافہ ہورہا ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ جاری کھاتوں کا خسارہ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے اور ملکی معشیت کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں : 10 ماہ میں تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر تک جا پہنچا
یاد رہے کہ چند روز قبل رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر تک جا پہنچا تھا ، خسارہ رواں مالی سال کے ہدف سے 4 ارب 10 کروڑ ڈالر زائد ہے۔
ماہ اپریل میں تجارتی خسارے میں اضافے کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ نو ماہ میں 50فیصد سے زائد بڑھ گیا تھا، ماہرین کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب ڈالرتک ہو جانے کا خدشہ ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کا رپورٹ میں کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت کے لیے بجٹ اور جاری کھاتوں کا خسارہ بڑا چیلنج ہے، درآمدات بڑھنے سے پاکستان کا جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھ رہا ہے۔