The news is by your side.

عجیب الخلفت سمندری مخلوق دریافت، سائنسدان حیران

سمندری دنیا میں خدا کی عجیب وغریب مخلوق پنہاں ہیں، ان میں سے سائنسدانوں کا سامنا ایسے جاندار سے پڑا جس کی ماہیئت نے انہیں حیران کردیا۔

اس جاندار کی دریافت ایک اتفاق کا نتیجہ تھی کیونکہ شمٹ اوشین انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان سمندری تہہ میں موجود زندگی پر تحقیق کررہے تھے اور اس دوران وہ جیلی فش جیسے جاندار کے پاس پہنچے۔

یہ باریک رسی نما جاندار آسٹریلیا کے ساحلی علاقے میں 600 میٹر گہرائی میں دیکھا گیا، جسے سائنسدانوں نے ‘سائی فونوفور’ کا نام دیا۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس کے جسم میں جان لیوا ریشے یا ٹینٹیکلز ہوتے ہیں، یہ ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا جاندار ہوسکتا ہے۔

اس کا جسم اس طرح پھیلا ہوا تھا جیسے کسی دھاگے یا رسی کو مختلف دائروں میں گھما کر رکھا گیا ہو، اس جاندار کے جسم پر موجود لاتعداد ریشے پانی میں چھوٹے جانداروں کے لیے موت کی دیوار کا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شتر مرغوں کی ایک ’ٹولی‘ کے فرار کی ویڈیو وائرل

اس جاندار کی دریافت ایک اتفاق کا نتیجہ تھی کیونکہ شمٹ اوشین انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان سمندری تہہ میں موجود زندگی پر تحقیق کررہے تھے اور اس دوران وہ جیلی فش جیسے جاندار کے پاس پہنچے۔

نیریڈا ولسن کے مطابق تمام افراد اس نظارے سے مسحور ہوگئے اور انہیں سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا چیز ہے؟

ان سائنسدانوں کے پاس وقت بہت کم تھا کیونکہ انہیں مخصوص وقت میں واپس جہاز تک پہنچنا تھا تو ان کے پاس چند لمحے تھے، انہوں نے لمحہ ضائع بغیر اس جاندار کے گرد گھما کر ویڈیو بنائی اور ٹشو کا ایک نمونہ حاصل کرنے کامیاب ہوئے۔

سائی فونوفور دیکھنے میں جیلی فش کی طرح کا جاندار ہے اور وہ اسی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کا جسمانی نشوونما منفرد انداز سے ہوتی ہے، جیسے سیکڑوں ننھی جیلی فش ایک دوسرے سے پیوست ہوں۔

ایک عمومی تخمینے کے مطابق سائی فونوفور ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا جاندار ہے جس کی لمبائی 45 میٹر تک ہوسکتی ہے، یعنی بلیو وہیل سے بھی زیادہ۔

مگر اب تک کوئی عالمی ریکارڈ اس جاندار کے نام نہیں ہوسکا کیونکہ اب تک اس کے حجم کا مستند تخمینہ سامنے نہیں آسکا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں