The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی فلموں‌ کے مشہور اداکار درپن کا یومِ وفات

آج پاکستان کی فلمی صنعت کے مشہور اداکار درپن کی برسی ہے۔ وہ 8 نومبر 1980ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔

درپن کا اصل نام سید عشرت عباس تھا۔ وہ 1928ء میں یو پی میں پیدا ہوئے۔ درپن کے فلمی سفر کا آغاز “امانت” سے ہوا۔ اس فلم کے بعد انھیں‌ پنجابی فلم بِلو میں کام کرنے کا موقع ملا جس کے بعد وہ بمبئی چلے گئے۔ درپن نے ممبئی میں‌ چند فلموں میں‌ کام کیا، لیکن جلد ہی لاہور واپس آگئے۔ یہاں فلم “باپ کا گناہ” سے دوبارہ انڈسٹری میں قدم رکھا اور 1959ء میں ان کی ایک فلم “ساتھی” نمائش پزیر ہوئی جس میں اس وقت کے مشہور ادکاروں‌ نیلو، طالش، حسنہ اور نذیر نے بھی کام کیا تھا۔ درپن کی یہ فلم بہت مقبول ہوئی اور اس کے بعد ان کی کام یابیوں‌ کا سفر شروع ہوگیا۔

رات کے راہی، سہیلی، انسان بدلتا ہے، دلہن، باجی، اک تیرا سہارا، شکوہ، آنچل اور نائلہ جیسی فلموں‌ نے درپن کو شائقین میں‌ مقبول بنایا۔ انھوں‌ نے اردو زبان میں 57 فلمیں، پنجابی کی 8 اور پشتو زبان میں‌ بننے والی دو فلموں میں بھی کام کیا۔

درپن نے بہترین اداکار کے زمرے میں دو نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کیے۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ درپن نے خود کو فلم ساز کے طور پر بھی آزمایا اور بالم، گلفام، تانگے والا، ایک مسافر ایک حسینہ کے نام سے فلمیں بنائیں۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے اس نام ور اداکار کو لاہور کے مسلم ٹائون کے قبرستان میں سپردِ‌ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں