ہوسکتا ہے ملک کے لیے دوباہ نہ کھیل سکوں‘ ڈیوڈ وارنر -
The news is by your side.

Advertisement

ہوسکتا ہے ملک کے لیے دوباہ نہ کھیل سکوں‘ ڈیوڈ وارنر

سڈنی: بال ٹیمپرنگ میں ملوث آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق نائب کپتان ڈیوڈ وارنر نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ملک کے لیے دوبارہ نہ کھیل سکوں۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ڈیوڈ وارنر پریس کانفرس کے دوران اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور معافی مانگتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔

ڈیوڈ وارنر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ میں اپنی غلطی پرشرمندہ اورمعافی چاہتا ہوں، کرکٹ جنوبی افریقہ، فینزاورسب سے معافی مانگتا ہوں۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق نائب کپتان ڈیوڈ وارنر نے پریس کانفرنس میں بہت سے سوالات کے جواب نہیں دیے، انہوں نے کہا کہ وقت آنے پرکچھ سوالوں کے جواب دوں گا۔

خیال رہے کہ 24 مارچ کو کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران آسٹریلوی ٹیم کے کپتان اسٹیون اسمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور بلے باز کیمرون بینکرافٹ بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔

آئی سی سی نے بال ٹمپرنگ ثابت ہونے پر آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ پر میچ فیس کا سو فیصد جرمانہ اور ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی عائد کی تھی جبکہ کیمرون بینکرافٹ پر میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ اور تین پوائئنٹس میں بھی کمی کردی گئی تھی۔

بعدازاں 25 مارچ کو بال ٹیمپرنگ میں ملوث آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وانر نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بال ٹیمپرنگ،اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر پرایک سال کی پابندی

یاد رہے کہ 28 مارچ کو آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے سربراہ جیمز سدر لینڈ کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی ٹیم کے کپتان اسٹیون اسمتھ اور نائب کپتان وارنر کے خلاف بال ٹمپرنگ ثابت ہونے کے جرم میں ایک سال کے لیے کرکٹ کھلینے پر پابندی عائد کردی گئی۔

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے مطابق کینگروز ٹیم کے مایہ ناز بلّے باز کیمرون بینکرافٹ پر بھی 9 ماہ کی پابندی عائد کرکے تینوں کھلاڑیوں کو پابندی سے آگاہ کردیا گیا۔

بال ٹیمپرنگ میں ملوث آسٹریلوی کرکٹرز نے معافی مانگ لی

واضح رہے کہ دو روز قبل بال ٹیمپرنگ میں ملوث سابق آسٹریلوی کپتان نے معافی مانگ لی تھی، پریس کانفرنس کے دوران اسٹیون اسمتھ آبدیدہ ہوگئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں