The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

 ( پہلی قسط )

میں نے اِس چھوٹی سی دنیا میں رہ کر یہ جانا کہ لوگ روحانی اذیت میں ہیں اور بہت دل گرفتہ بھی لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ میں نے جانا کہ ایک دن سب نے مرنا ہے۔

لیکن جو اوروں کے لئے جیتے ہیں وہ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں میں نے جانا کہ جنت بھی کچھ ایسی جگہ ہوگی جہاں کچھ نئے اصول ہوں گے لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟؟؟۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اور انسان طبعاٌ بڑا ہی نا شکرا ہے جب اُس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ پورے قلبی جھکاؤ کیساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے ، لیکن جب اِس”۔“کے بعد اُسے آ سائش میسر آتی ہے تو وہ اپنی ساری گریہ و زاری کو بھول کر کہنے لگتا ہے کہ میرا مسیحا تو کوئی اور بنا (سورۃ الزمر ۔ القرآن) قرآن کی آیت کیا تھی ایک برچھی تھی جو سیدھی منتہیٰ دستگیر کے سینے میں عین وسط پر پیوست ہوئی تھی ۔ “وہ آسمان کی بلندیوں سے پاتال کی کھا ئیوں میں گری تھی ۔یقیناٌ وہ اُس کا رب ہی تھا جس نے اُس کے نصیب کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی شمعیں فروزاں کی تھیں ۔” “اور ارمان یوسف اس کی آزمائش تھا یا صبر کا انعام یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا ۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اُس کے بکھرے کمرے میں اپنے اصل مقام پر موجودواحد شے وال کلا ک تھی شاید اِس لیئے کہ جب سے سیل فون ہماری زندگیوں کا حصہ بنے ہیں وال کلاک سے سب کا سلوک سوتن جیسا ہو گیا ہے ۔ اُسکا عقیدہ تھا کہ” ممی کی ڈانٹ پھٹکار کا اثر جن لڑکوں پر ہونے لگے اُن میں ضرور قبلِ مسیح کی کوئی روح حلول کر جاتی ہے “۔

لیکن پاپا کے لیے یہ سب عقائد دھرے کے دھرے رہ جاتے تھے ۔ اللہ سے ہمیشہ ایک ہی شکوہ کیا کرتا تھا کہ یا “تو اس کے پاپا سینئر پروفیسر نہ ہوتے یا وہ اُنکی اکلوتی اولاد نہ ہوتا، اُس کے نزدیک پروفیسرکی اولاد ہونا دنیا کی سب سے بڑی بد نصیبی تھی”۔ جن کی سوئی سٹڈیز ، رولز اور شیڈول پر ہی اٹکی رہتی تھی اور چار و ناچار ارمان کوبھی کئی بنکس ، مکس گیدرنگز اور میوزک کنسرٹس چھوڑ کر صرف اُن کتابوں میں سر کھپانا پڑتا تھا جو اسے اپنی جانی دشمن لگا کرتی تھیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عموماً سٹوڈنٹس میتھ میٹکس اور فزکس سے سب سے زیادہ خار کھاتے ہیں ، “کوانٹم فزکس کے متعلق تو اُس کی کلاس کی متفقہ رائے تھی کہ یہ دنیا کا ذلیل ترین سبجیکٹ ہے “،جس کے پیریڈ سے سب ہی کی جان جاتی تھی ، لیکن پوری کلاس میں اگر کوئی سٹوڈنٹ مکمل دلچسپی اور دلجمعی سے لیکچر اٹینڈ کرتا تھا تو وہ “منتہیٰ “تھی ۔کہنے والے کہتے ہیں کہ’’ کوانٹم فزکس انسانی خواص سے ماوراء کسی اور سیارے کسی اور دنیا کا مضمون ہے‘‘۔ لیکن منتہیٰ کو اشیاء ہی نہیں اپنے اِرد گرد کی دنیا اور رویئے بھی کوانٹم فزکس کے اُصولوں کی مدد سے سمجھ میں آنے لگے تھے اُس کے پاس ذہانت تھی، کچھ کر دکھا نے کا جنون اور ٹیلنٹ تھا جس کے بل بوتے پر وہ آگےبڑھتی چلی گئی ۔۔ ‘‘وہ منتہیٰ دستگیر جو ہر شے کو کامیابی کے پیمانے پر پرکھنے لگی تھی ،نہیں جانتی تھی کہ وقت کی تلوار بہت بے رحم ہے اور دنیا میں ہر عروج کو زوال ہے ۔’’

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ابے خبیث توضرور کسی دن مجھے پاپاکے ہاتھوں پٹوائے گا ،”دس ہزار دفعہ منع کیاہے کہ پی ٹی سی ایل پر وقت بے وقت کال مت کیا کر” ۔۔ “پر تیرے کان پر جوں نہیں رینگتی “۔

ارمان اپنے یارِ غار ارحم پر بری طرح برحم تھا ، لیکن وہ ارحم ہی کیا جو کسی کی سنتا ہو ۔ ابے۔ “یہ گندی اشیاء تیرے اپنے سر میں پائی جاتی ہوں گی میرے نہیں “۔۔ ہونہہ ! تیرا سیل دو گھنٹے سے بزی تھا ۔۔ “اب بتا کس حسینہ سے گفتگو میں مصروف تھا میرا شہزادہ ۔۔؟؟” ابے بھوتنی کے۔ “پاپا گھر میں تھے میری مجال کے میں سٹڈیز چھوڑ کر سیل اٹھاتا “۔۔ “ویسے اپنے نصیب میں کو ئی حسینہ ہے بھی نہیں ایک سرد آہ کے ساتھ جواب حاضر تھا ۔۔” ٹھیک ہے چھپا لے بیٹا ۔۔ “تیرے سارے راز پوری کلاس کے سامنے نہ کھولے تو میرا نام بھی اَرحم تنویر نہیں ۔۔” اس سے پہلے کہ ارمان اسے ایکُ مکا جڑتا اَرحم رفو چکر ہو چکا تھا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“زندگی اتفاقات ، واقعات اور حادثات کا مجموعہ ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ کب کونسا واقعہ یا حادثہ اُسے ایک بند گلی کے موڑ پر لیجا کر چھوڑ دیگا جہاں اسے ایک بے مقصد اور بے مصرف زندگی گزارنا پڑیگی “۔ “ایک کامیاب ترین زندگی سے ایک بے مصرف وجود تک پہنچ جانے میں انسان پرکیا کچھ بیت جاتی ہے یہ وہی جان سکتا ہے ۔جوِ ان حالات سے گزرے ، تب زندگی گزارنے اور اِسے بیتنے کا اصل مفہوم سمجھ میں آتا ہے “۔

“ایک پُر امید کبھی مایوس نہ ہونے والا شخص کیونکر صرف موت کا انتظار کرنے لگتا ہے، وہ کیسے دکھ ہوتے ہیں جو ہر حال میں خوش رہنے والے کو موت کی چوکھٹ پر شب و روز دستک کے لیئے لا بٹھا تے ہیں ۔ “دنیا نے نا کبھی سمجھا ہے نا کبھی سمجھ پائیگی کیونکہ دنیا صرف چڑھتے سورج کی پوجا کیا کرتی ہے ۔۔ ڈوبتا سورج یا ٹوٹتے تارے دنیا والوں کے لئے بے معنی ہوا کرتے ہیں “۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“سائنس میں جو ماڈلز ہم بناتے ہیں اُن کا اطلاق صرف سائنسی نمونوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اِن ماڈلز پر بھی یکساں طور پر ہوتا ہے جو ہم سب نے زندگی کو سمجھنے اور روزمرہ کے واقعات کی تشریح کے لیے اپنے اپنے تحت الشعور میں بنائے ہوئے ہیں “۔اور یہی ہمیں دنیا سے باخبر رکھتے ہیں ۔ “آج تک کوئی ایسا طریقہ دریافت نہیں ہو سکا جس کے ذریعے دنیا کے متعلق ہمارے نظریات میں سے آبزرور یعنی انسان کو منہا کیا جا سکے کیونکہ تصورات ہمارے اعصابی نظام کی تخلیق ہوتے ہیں “۔

“اشیاء کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے کسی شخص کی مناظری حِس کے نیچے لگاتار سگنلز موصول ہوتے ہیں ، لیکن یہ ڈیٹا ایک خراب کھینچی ہوئی تصویر کی طرح ہوتا ہے اور انسانی دماغ اُس کو کامیابی کے ساتھ پروسس کر کے ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے ۔ جس کے مطابق ہم کائنات کی ہر شے کے بارے میں اپنی اپنی ذہنی سطح تک تصوارات تشکیل دیتے ہیں ۔” منتہیٰ سمیت پوری کلاس جیسے سحر زدہ تھی اور پروفیسر یوسف اپنے لیکچر کا فسوں بکھیر کر جا چکے تھے ۔۔ “پروفیسر ڈاکٹر یوسف رضا کا شمار پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس کے مایہ ناز اساتذہ میں ہوتا تھا ، اپنے پیشے سے ان کی جذباتی وابستگی ، لگن اور ان تھک محنت کا ثمر تھا کہ جلد ہی وہ ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کے عہدے پر فائز ہونے والے تھے” ۔ فزکس عموماٌ خشک مضمون سمجھا جاتا ہے لیکن اِس کے برعکس پروفیسر یوسف انتہائی ہنس مکھ اور ملنسار واقع ہوئے تھے ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ہمارے معاشرے میں اَنا کا حق صرف مرد رکھتا ہے عورت کو ماں ، بہن، بیٹی یا بیوی ہر روپ میں ، زندگی کے ہر نئے موڑ پر ، ہر رشتے کو نبھانے کے لیئے اپنی اَنا اور خود داری کی قربانی دینا پڑتی ہے ۔اپنے اندر کی عورت، اُس کی اُمنگوں اور جذبوں کو دبا کر صرف مرد کی خواہش کے مطابق جینا ہی عورت کی اصل زندگی ہے “۔”لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے ہر مرد عورت کو مٹی کی مورتی یا پلاسٹک کا کھلونا نہیں سمجھتا “۔”بے نظیر ، حنا ربانی ، نرگس ماول والا اور فضا فرحان جیسی خواتین بھی اسی معاشرے کی پیداوار ہیں “، فرق صرف اتنا ہے کہِ “انھیں خوش قسمتی سے ایسے مرد حضرات کا ساتھ میسر آیا جنھوں نے اُن کی صلاحیتوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اُن کا بھرپور ساتھ دیا” ۔ آج جب نرگس کالیگوپراجیکٹ سارے عالم میں دھوم مچاتا ہے ، شرمین آسکرایوارڈ جیتتی ہے یا فضا اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی پینل میں شامل کی جاتی ہے “تو گویا دنیا اس عورت کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتی ہے جسے عموماٌ ہانڈی، روٹی اور ڈائیپرز کا ایکسپرٹ سمجھا جاتا تھا “۔ “بلا شبہ کسی معاشرے میں عورت کا ایک با عزت مقام ہی اس قوم کی عظمت کا نشان ہے ۔

عالمی یومِ خواتین کے موقع پر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا آڈیٹوریم سٹوڈنٹس سے کچھا کچھ بھرا تھا اور منتہیٰ کا جوشِ خطا بت دیدنی تھا ۔ اُس کے اکثر اساتذہ کے ریمارکس تھے کہ “اس جیسے ملٹی ٹیلنٹڈ سٹوڈنٹس باعثِ فخر ہوتے ہیں اور اگر انھیں سازگار ماحول میسر آئے تو وہ ضرور بین الاقوامی سطح پر اپنی قوم کی پہچان بنتے ہیں ۔” بی ایس فزکس میں یہ منتہیٰ کا آخری سیمسٹر تھا اور یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے کا خواب جلد ہی شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا ، اور پھر اس کی اگلی منزل پنجاب یونیورسٹی تھی، “اس کا بے پناہ ٹیلنٹ اسے کسی کل چین سے نا بیٹھنے دیتا تھا ، یقیناٌ وہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی ، وہ کچھ غیر معمولی کر دکھانے کے لیے ہی پیدا کی گئی تھی۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“یار تو دن بدن پکا بک وارم بنتا جا رہا ہے مجھے تو تیرے ساتھ بیٹھتے ہوئے ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں کوئی چھوٹا موٹا سا تیرا سایہ مجھ پر نہ پڑ جائے ۔” اَرحم اسے ہر جگہ تلاش کرتے ہوئے لا ئبریری تک آیا تھا اور ارمان کے سامنے پھیلی موٹی موٹی کتابوں کو دیکھ کر کہے بنا نہیں رہ سکا ۔۔۔ “لیکن جواب ندارد “۔۔ “ارمان پوری توجہ اور دلجمعی کے ساتھ اپنے نوٹس مکمل کرنے میں مصروف تھا ۔” کچھ دیر تک منہ بسورے ارمان کو گھورتے رہنے کے بعد نا چاہتے ہوئے بھی اَرحم کی توجہ سامنے کھلی بکس پر چلی گئی ۔ “بی ، پی لیتھی کمیونیکیشن سسٹمز “کے انتہائی اہم ٹاپکس سامنے کھلے پڑے تھے جو لیکچرز میں اُن کے سر کے اوپر سے گزر گئے تھے ۔ ایک تو پیریڈ بھی پہلا جس میں آدھی کلاس عموماٌ اونگھ رہی ہوتی ہے اوپر سے افضال سر جیسے سخت مزاج ٹیچر ، کسی کے کچھ بمشکل ہی پلے پڑتا تھا ۔ اللہ بھلا کرے سمارٹ فونز بنانے والی تمام کمپنیوں کا جن کی بدولت اب سٹوڈنٹس کے کئی مسائل چٹکی بجاتے میں حل ہو جاتے ہیں ۔ سو اَرحم بھی اپنا آئی فون سیون نکال کر تندہی سے نوٹس کی پکچرز بنانے لگا ۔۔ ارمان نے دو تین دفعہ اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا “مگر اَرحم جیسے ڈھیٹ پیس دنیا میں کم ہی پائے جاتے تھے “۔ البتہ اندر وہ بمشکل اپنی ہنسی دبائے ہوئے تھا ۔ “تھوڑی دیر پہلے اُس کے سائے سے بچنے کی باتیں کرنے والا اَرحم پکا نہیں تو نو زائیدہ بک ورم بن ہی گیا تھا ۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بی ایس کے لاسٹ سیمسٹر کاآخری پیپر دیکر آتے ہی منتہیٰ یوں گھوڑے ،گدھے، ہاتھی ببر شیر بیچ کر سوئی کہ پھر رات کو ہی شدید بھوک سے آنکھ کھلی ۔۔ وہ بھی شدید  بھوک پیٹ میں چوہے نہ دوڑ رہے ہوتے تو اس کا پکا ارادہ اگلی صبح جاگنے کا ہی تھا۔

دادی کی ڈانٹ پھٹکارکچن تک اُس کا پیچھا کرتی رہی ۔۔ “اے لو “یہ کوئی وقت ہے جاگنے کا “دنیا جب سونے لیٹی تو یہ نواب زادی جاگی ہیں ، نا سونے جاگنے کا سلیقہ نا نماز کی قضا کا ہوش “۔ ارے دادی آپ کو کیا معلوم کہ “یہ امتحان کیا بلا ہوتے ہیں ، مہینوں کی تیاری جیسے اپنا آپ بھلا دیتی ہے” ۔ کچن سے دو پلیٹوں میں کھانا لے کر وہ دادی پاس ہی تخت پر آبیٹھی کہ” دادی کی میٹھی میٹھی ڈانٹ ہی تو تھی جو اس کا ہاضمہ درست رکھتی تھی”۔ اے ہے ۔”یہ اپنی موٹی موٹی کتابوں کے فلسفے اپنے پاس ہی رکھو ۔ ہم نے ساری زندگی امتحان سمجھ کے کاٹی ہے “۔کیسے کیسے دکھ جھیل کے تیرے باپ اور اس کے بہن بھائیوں کو پالا ، “تم آج کل کی لڑکیاں کیا جانو کہ ماں اپنی راتوں کی نیندیں حرام کرکے اولاد کو پالتی ہے اور پھر فجر سے اُسے شوہر اور سسرال کے لیے کولہو کے بیل کی طرح جتنا پڑتا ہے “۔ ” میری بچی زندگی کو ہر لمحہ امتحان سمجھوگی تو تمہیں زیادہ تیاریاں نہیں کرنی پڑیں گی ۔ جب اپنی ناؤ اللہ پاک کے ہاتھ میں دیدو تو پھر ہرآزمائش سہل ہو جاتی ہے “۔۔ “وہ جو قادر بھی ہے اور قدیر بھی وہ اپنے پیاروں کو آگ کے دریا بھی پار کرا دیتا ہے اس لیے کہ اُس کے پیارے امتحانوں سے گزرنے کی تیاریاں نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی حیاتی خدا اور اُس کے قوانینِ فطرت کے حوالے کر کے خود ہر فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں “۔سر جھکائے چھوٹے چھوٹے نوالے ٹھونگتی دادی کی نصیحتیں سنتی رہی ، “مگر اس کا دھیان کہیں اورتھا “، ایسا نہ تھا کہ وہ اپنے بڑوں کی نا فرمان بچی تھی مگر” اس کی حد سے بڑھی ہوئی ذہانت ہر شے کو اپنے پیمانوں پر پرکھنے پر اکساتی تھی “۔ اس کے چند دن گھر میں خالی بیٹھ کر گزارنا دوبھر تھا ،بی ایس کے رزلٹ میں کچھ ٹائم تھا سو اس کا سارا وقت اب لیپ ٹاپ پر سرچنگ اور سرفنگ پر گزرتا تھا ، “گھر بار کے بکھیڑوں سے اسے کبھی بھی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی “۔ چند روز بعد منتہیٰ پنجاب یونیورسٹی ایڈمیشن فارم ڈاؤن لوڈ کر رہی تھی کہِ ارسہ سر پر نازل ہوئی ۔وہ کچھ جز بز تو ہوئی لیکن اپنی دونوں چھوٹی بہنیں اُسے جان سے زیادہ عزیز تھیں ۔ “ملک غلام فاروق دستگیر کا چھ افراد پر مشتمل یہ کنبہ فیصل آباد سول لائنز ایریا میں برسو ں سے آباد تھا ۔ ملک صاحب پنجاب حکومت کےایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ میں سترہ گریڈ کے آ فیسر اور پیشے کے لحاظ سے کیمیکل انجینئر تھے”۔ اُن کی وفا شعار بیوی عاصمہ ، بوڑھی والدہ اور تین بیٹیاں منتہیٰ، اِرسہ اور رامین ہی ان کی کل کائنات تھیں ۔ “وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کھلی ذہنیت والے انسان تھے، سو انہوں نے اپنی بیٹیوں کی تربیت بھی بیٹوں کی طرح کی تھی “، خصو صاٌ سب سے بڑی منتہیٰ سے انھیں بے شمار توقعات وا بستہ تھیں ۔” سکول سے یونیورسٹی تک ٹاپ پوزیشن کے ساتھ وہ ایک بہترین مقررہ ، رائٹر اور پینٹر تھی “۔

ان کی باقی دونوں بیٹیاں بھی ما شاء اللہ بہت با صلا حیت تھیں ۔۔ “اِرسہ کمپیوٹر انجینئرنگ میں اور رامین ابھی پری میڈیکل میں تھی” وہ ان باپوں میں سےہرگز  نہ تھے “جو بیٹیوں سے جلد از جلد جان چھڑانے کے چکر میں انھیں غلط ہاتھوں میں سونپ دیتے ہیں اور یہ معصوم کلیاں کھلنے سے پہلی ہی مرجھا جاتی ہیں “۔ اسی لیے بی ایس سے فارغ ہوتے ہی جب ان کی اکلوتی بہن اپنے بیٹے کا رشتہ منتہیٰ کے لیے لائی تو انہوں نے بیٹی کی مرضی معلوم کرنے کا کہہ کر کچھ وقت مانگا تھا۔

” ذاتی طور پر وہ چھوٹی عمر کی شادی کی حق میں بلکل نہیں تھے ، اس لیے انہیں کوئی خاص جلدی نہیں تھی ، مگر ان کی والدہ اور بیوی عاصمہ کو تین بیٹیاں پہاڑ جیسا بوجھ نظر آتی تھیں “۔ “جن کے خیال میں لڑکیاں تو بس کولہو کا بیل ہوتی ہیں ، جدھر ہانک دو چل دیں گی ، جس کھونٹے سے باندھ دو ساری عمر وہیں بتا دیں گی مگر حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائیں گی”۔ “اور اب یہی مژدۂ لے کر ارسہ منتہیٰ کے سر پر سوار تھی “۔ اپنے مستقبل کی پلاننگ میں اس غیر متوقع آپشن کی آمد پر منتہیٰ کا سر چکرایا ۔ امی اور دادی سے بات کرنے کا مطلب آ بیل مجھے مار تھا “سو دونوں بہنیں سر جوڑ کے بیٹھ گئیں کہ اِس بلائے  نا گہانی سے کس طرح جان چھڑائی جائے “۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ارمان یوسف سے اُس کا پہلا تعارف سوشل میڈیا کے توسط سے ہوا “۔ فیس بک پر منتہیٰ نے کئی جرنل نالج گروپس، کوئز اور معلوماتی تقاریر کی وجہ سے جوائن کیے ہوئے تھے اِنہی میں سے ایک گروپ میں “انسان کا چاند پر پہلا قدم اور نیل آرم سٹرونگ کی صداقت “پر ایک دھواں دھار ڈیبیٹ جاری تھی ۔

اِس طویل ترین پوسٹ پرکمنٹس کی تعداد ہزاروں میں جا چکی تھی لیکن منتہیٰ سمیت کوئی بھی اپنے مؤ قف سے دست بردار ہونے کو تیار نہ تھا ۔ منتہیٰ کا اِستدلال یہ تھا “کہ اپالو ۱۱ کی جو نشریات براہِ راست دکھائی گئی تھیں وہ فیک یا پکچرائز ہر گز نہیں تھیں”۔ جبکہ مخالف پارٹی سے ارمان یوسف اپنی بات پر اڑا ہوا تھا،کہ” ناسا جو دنیا بھر میں خلا سے متعلق مستند ادارہ سمجھا جاتا ہے ، امریکی فیڈرل بجٹ اور مختلف سپانسر کی مد میں تقریباٌ ۲۰ بلین ڈالرکی خطیر رقم اس مشن پر جھونک چکا تھا “۔ “اگر یہ چاند پر لینڈنگ کی یہ ویڈیو یوں ٹیلی کاسٹ نہ کی جاتی تو ناسا کے سارے سپانسرز بند ہو جاتے “۔ جبکہ انہیں فوری طور پر “مارس مشن کے لیے اس سے بڑی رقم درکار تھی “۔”اس کے علاوہ سوویت یونین خلائی دوڑ میں امریکہ سے برتری حاصل کر چکا تھا ، ناصرف خلا میں پہلا قدم رکھنے والے انسان کا اعزاز روس کے پاس تھا ، بلکہ جلد ہی وہ چاند پر بھی کمندیں ڈالنے والے تھے”۔ “سو اپنے سب سے بڑے حریف کو مات دینے کا یہ ایک بہترین طریقہ تھا جو ناسا کے تھنک ٹینکس نے یوں مؤثر طور پر ڈیزائن کیا کہ اس پر حقیقت کا گمان ہوتا تھا” ۔ مگر بہرحال یہ سب کچھ اب تک قیاسات ہی ہیں ۔

” ہفتوں جاری رہنے والی یہ ڈبیٹ منتہیٰ کے ارمان سے تعارف کا سبب بنی “۔”کو ئی نہیں جانتا تھا کہ انسان کا چاند پر پہلا قدم سے شروع ہونے والا یہ تعارف وفا اور ایثار کی ایک لازوال داستان کو جنم دینے والا ہے”۔

مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں