site
stats
دوام

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

DAWAAM

رامین سیو دی ارتھ کی ہفتہ وار میٹنگ میں تھی جب اسے سیل پر امی کی کال موصول ہوئی ۔۔ بہت تیزی کے ساتھ اپنی فائلزسمیٹتی ہوئی وہ باہر لپکی تھی کہ پیچھے سے آتی ارمان کی آواز نے قدم روکے ۔
“رامین کیا بات ہے ۔۔ سب خیریت ہے نہ “۔۔؟؟
“ارمان بھائی ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں مجھے جلدی گھر پہنچنا ہے” ۔۔ اُس نے تیزی سے قدم بڑھائے۔۔۔
“میرے ساتھ آؤ وہ پارکنگ میں اپنی کار کی جانب بڑھا “۔۔۔ دو گھنٹے بعد وہ ہاسپٹل میں تھے ۔۔ فاروق صاحب کو ہلکا سا انجا ئناکا درد ہوا تھا ۔ارمان نے اپنے گھر اطلاع دے دی تھی ۔۔ سو ٹریٹمنٹ اور ٹیسٹس وغیرہ سے فارغ ہوکر جب رات نوبج وہ گھرپہنچے ۔
تو ڈاکٹر یوسف اور مریم پہلی ہی وہاں موجود تھے ۔
ارمان ، رامین کو ڈھونڈتا ہوا اُس کے کمرے تک آیا ۔۔ پھر ٹھٹکا ۔۔
منتہیٰ بھی سکائپ پر رامین کے عقب میں ارمان کو دیکھ کر اُچھلی ۔۔ وہ ہاتھ میں برگر لیے ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔”اور باہر اولڈ کیمبرج پر بادل ٹوٹ کر برس رہے تھے”۔۔رامین کب کی رفو چکر ہو چکی تھی ۔
“ارمان آپ یہاں ۔۔ رامین کے روم میں “۔۔؟؟ ۔۔منتہیٰ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔ اور ارمان اس کی آواز پر جیسے خواب سےجاگا تھا ۔۔ “آج کتنے ماہ بعد ۔۔ دیدارِ یار نصیب ہوا تھا “۔۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“منتہیٰ ایکچولی “۔۔ “فاروق انکل کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو میں ۔۔ ممی پاپا کے ساتھ ابھی آیا تھا “۔۔
کیا ہوا ابو کو ۔۔؟؟
“کچھ نہیں بس ہلکا سا درد تھا انہیں ۔۔ اب ٹھیک ہیں وہ “۔۔
“میں ابو سے بات کرتی ہوں “۔۔
“منتہیٰ سب ٹھیک ہے” ۔۔ ارمان اسے روکتا ہی رہ گیا مگر وہ سکائپ آف کرکے گھر کے نمبر پر کال ملا چکی تھی ۔۔
“امی، ابو کو کیا ہوا ہے”۔۔؟؟اس کی آوا ز میں بے پناہ تفکر تھا۔۔ عاصمہ کی آنکھیں بھیگیں ۔۔ان کی مرد بیٹی جب تک اُن کے پاس تھی ۔۔وہ کبھی ایسی تشویش سے نہیں گزری تھیں ‘ جس کا سامنا انہیں آج ہوا تھا۔
۔۔””ہر گھر میں بڑی بیٹی ماں کے سب سے زیادہ قریب ہی نہیں ہوتی ۔۔ ماں کے حالِ دل کی سب سے بڑی گواہ بھی ہوتی ہےاور اُس کے رازوں کی امین بھی
“کچھ نہیں بس تھوڑی طبیعت خراب ہوئی تھی ۔۔ ٹیسٹ ہوئے ہیں کچھ ۔۔تم پریشان مت ہو “۔۔ وہ اپنی پریشانی چھپا گئیں
“اچھا رپورٹس کب آئیں گی “۔۔؟؟ ۔”آپ پلیز اپنا خیال رکھنا پریشان نہیں ہونا “۔۔
“رپورٹس ارمان کل لے آئے گا۔۔ بہت خیال کرتا ہے ۔۔ ابھی بھی تمہاری دادی کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہا ہے “۔۔ عاصمہ نے سامنے دیکھاجہاں دادی اپنی پوتی کے منگیتر سے ناز اٹھوا رہی تھیں ۔۔
اور منتہیٰ نے سکون کی سانس لے کر کال بند کی ۔
اگلے روز شام کو ارمان آفس میں تھا جب واٹس ایپ پر منتہیٰ کا مسیج آیا ۔۔۔ مجھے ابو کی رپورٹس سینڈ کریں ۔۔
“رپورٹس کلیئر ہیں ۔۔ ڈونٹ وری “۔۔ اُس نے کام میں مصروف وائس مسیج کیا ۔۔
“میں نے کہا ،مجھے رپورٹس کی امیج سینڈ کریں “۔۔۔ جواب آیا
ارمان کو غصہ چڑھا ۔۔۔” آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے “۔۔؟؟
“نہیں “۔۔
“رامین کا یقین کریں گی آپ”۔۔؟؟
“نہیں”۔۔
“پھر آپ کس کا یقین کرتی ہیں “۔۔؟؟
“صرف اور صرف اپنی آنکھوں کا “۔۔ سمائل ایموجی کے ساتھ جواب آیا
ارمان نے بھنا کر موبائل سکرین دیکھی ۔۔۔” منتہیٰ بی بی “۔۔ “اگر گِن گِن کے سارے بدلے نہیں لئے نہ ۔۔ تو میرا نام بھی ارمان یوسف نہیں “۔
****************
وقت کا دھارا بہتا رہا۔۔سات ماہ یوں پلک جھپکتے میں گزرے کہ پتا ہی نہیں چل سکا۔۔اور اب منتہیٰ کے بعد ارمان کی روانگی کا وقت ہوا چاہتا تھا۔
“سیو دی ارتھ فاؤنڈیشن کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ فردِ واحد یا مخصوص شخصیات پر ہر گز انحصار نہیں کرتی ۔۔ ہم نے شروع ہی سے اس کا نیٹ ورک کچھ ایسا رکھا ہے کہ نئے لوگ تیزی سے آگے آکر پرانے قابل لوگوں کی جگہ کور کرتے
رہیں ۔ہم ہر چھ ماہ بعد ونگ کمانڈرز اسی لیے تبدیل کرتے رہے کہ کسی بھی کڑے وقت میں ہمارے پاس قیادت کا بحران نہیں ہو ۔۔ مجھے امید ہے کہ میری غیر موجودگی میں سارے پراجیکٹس ، میٹنگز سب کچھ اسی طرح جوش و خروش سے
چلتا رہے گا “۔۔
ارمان یوسف کی سکالر شپ پر “ییل یونیورسٹی “کے ٹیلی کام کورس کے لیے روانگی سے پہلے یہ اس کی آخری میٹنگ تھی۔منتہیٰ برین ونگ کی کمان کے لئے جانے سے پہلے ہی بہترین لوگ نامزد کر گئی تھی۔۔ اور پچھلے کچھ عرصے سے سٹڈیز کی
کی بے پناہ مصروفیات کے باعث وہ ایس ٹی ای سے تقریباٌ لاتعلق تھی ۔۔۔ لیکن ارمان سمیت ۔۔ منتہیٰ کو قریب سے جاننےوالوں کو علم تھا ۔۔ “وہ لا تعلق ہو کہ بھی لا تعلق نہیں تھی ۔۔ وہ کچھ نا کچھ کر ہی رہی ہوگی “۔
ارمان کو نا جانے کیوں یہ یقین سا تھا کہ سٹڈیز کے لیے بیرونِ ملک اُس کا یہ قیام ۔۔۔فاؤنڈیشن کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوگا۔۔ “اور ہمیشہ کی طرح اپنے اندازوں میں ایک دفعہ پھر وہ سو فیصد درست تھا “۔۔
ائیرپورٹ پر اسے سی آف کرنے دوستوں اور ایس ٹی ای کارکنان کا ایک جمِ غفیر آیا ہوا تھا ۔۔ وہ یوتھ کا ہیرو تھا ،جس نے اپنی دن رات کی انتھک محنت سے ایک وسیع علاقے کے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کر کے ان کی تقدیر بدل دی تھی ۔۔۔ کوہاٹ سے
سکھرتک اب لاکھوں کارکنان اِس قافلے کا حصہ تھے”۔۔
اُس نے پاکستان سے ڈائریکٹ نیو ہاوان کے بجائے میسا چوسٹس کی فلائٹ لی تھی۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہی موسلا دھار بارش تھمی تھی ۔
منتہیٰ سائنس سینٹر سے باہر نکلی ہی تھی کہ اُس کا سیل تھرتھرایا ۔۔ “ارمان کالنگ “۔
“ہیلومنتہیٰ”۔۔ “میں یہاں ہارورڈ کیمپس پر ہوں ۔۔ آپ اس وقت کہاں ہیں “۔۔؟؟ارمان کی آواز بہت پُرجوش تھی۔۔۔ کئی ماہ سے ان کی سلام دعا کے علاوہ بات ہی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ منتہیٰ کو سٹڈیز اور اس کی ریسرچ نے اَدھ مواکیا ہوا تھا تو ارمان جاب اور فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کے درمیان گھن چکر بنا ہوا تھا۔
منتہیٰ نے سیل کو حیرت سے گھورا ۔۔ “ارمان اور یہاں کیمپس میں” ۔۔؟؟
ٹھیک بیس منٹ بعد وہ سائنس سینٹر پر تھا ۔۔ “بلیو جینزگرے شرٹ کے ساتھ براؤن جیکٹ اورآنکھوں پر گلاسز ۔۔بہت سی لڑکیوں نے اُسے مڑ کر دیکھا ۔۔ وہ اِس توجہ کا عادی تھا “۔
“ہیلو منتہیٰ کیسی ہیں آپ “۔۔؟؟
“آنکھیں حالِ دل چھپانے سے قاصر تھیں ۔مگر نگاہوں کی زبان سمجھ کسے آتی تھی”۔۔؟؟
منتہیٰ کے ساتھ اس کی کلاس فیلو نینسی تھی ۔۔۔”اوہ سو ہینڈسم ۔۔ ُ ہو اِز ہی مینا ۔۔”۔۔؟؟
I am Arman Yousaf .. Her fiancé…
ارمان نے اَزخود تعارف کروایا ۔۔
OH! Meena why didn’t you tell me before… he is so graceful…
نینسی نے دل تھام کر دیدے نچائے ۔۔۔ نینسی کی نان سٹاپ چلتی زبان پر منتہیٰ کو اکثر فاریہ یاد آجایا کرتی تھی ۔
“ہیپی برتھ ڈے منتہیٰ “۔۔۔ ارمان نے خوبصورت سا ٹیولپ بُو کے اس کی جانب بڑھایا ۔ اس کے شولڈر پر ایک بیگ تھا ۔۔ اور ہاتھ میں کیک کا پیکٹ ۔۔۔
“اوہ ۔برتھ ڈے پارٹی”۔۔ نینسی نے خوشی سے نعرہ لگایا اور چھلانگیں لگاتی ہو ئی ایک سمت غائب ہو گئی ۔
ارمان نے خاصی دلچسپی سے اِس نمونے کو دیکھا ۔۔ “میں تو سمجھا تھا ، فاریہ زمین پر ایک ہی پیس ہے ۔۔ مگر اُس کی تو اور کاپیز بھی موجود ہیں “۔۔وہ ہنسا ۔۔ تو منتہیٰ چونکی ۔۔ “اُن دونوں کا تجزیہ ایک جیسا تھا “۔۔
“آئیں چلیں کہیں بیٹھ کے پہلے کیک کاٹتے ہیں “۔۔ ارمان نےِ ادھر اُدھر کسی پر سکون گوشے کی تلاش میں نظر دوڑائی۔۔ “وہ اولڈکیمبرج سے قطعاٌ فینٹی سائز نہیں تھا “۔۔
سینڈرز تھیٹر کی طویل سیڑھیوں پر ایک جانب جاکر وہ بیٹھے ہی تھے کہ نینسی کوئی درجن بھر کلاس فیلوز کے ساتھ سر پر آدھمکی ۔۔
وہ سب ارمان سے بہت خوش دلی سے ملے تھے ۔۔ نینسی کے نائف سے ہیپی برتھ ڈے کے شور میں منتہیٰ نے کیک کاٹا ۔دس منٹ بعد وہ ساری جنجال پارٹی کیک کا صفایا کر کے رفو چکر ہو چکی تھی ۔۔۔
“آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آپ آرہے ہیں “۔۔؟؟ منتہیٰ کو یکدم یاد آیا
“منتہیٰ بی بی”۔”کچھ یاد ہے ۔۔ آخری دفعہ آپ کی مجھ سے کب بات ہوئی تھی “۔۔؟؟ ۔ارمان نے ناک سے مکھی اڑائی
“وہ بس میں بہت مصروف تھی‘ وقت نہیں ملتا “۔۔۔ منتہیٰ نے ٹالا
“جی ۔۔ میں بھی بزی تھا ۔۔ مجھے بھی ٹائم نہیں ملا بتانے کا “۔۔۔ جواب حاضر تھا ۔۔ منتہیٰ نے نوٹ کیا وہ بدل گیا تھا ۔۔ لیکن اس کا ایک سو بیس آئی کیو اِس معاملے میں ہمیشہ غلط نتیجہ ہی نکالتا تھا ۔
ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں ” ییل یونیورسٹی ” جا رہا ہوں۔ ٹیلی کام کورس کے لیے ۔۔ فلائٹ میں نے میسا چوسٹس کی لی تھی تاکہ آپ سے ملاقات ہو جائے۔ یہ سب نے آپ کے لیے گفٹ بھیجے ہیں ۔ اس نے ایک بیگ منتہیٰ کی طرف بڑ ھایا
لیکن منتہیٰ کی سوئی کہیں اور اٹکی رہ گئی تھی ۔۔”ارمان ۔ییل یونیورسٹی۔۔ پھر تیزی سے خود کو سنبھال کر ۔ اُس کے ہاتھ سے بیگ لیا۔”
وہ بہت دیر تک ارمان سے پاکستان میں ایک ایک کے بارے میں پوچھتی رہی ۔۔ وہ اسے سیو دی ارتھ کی پروگریس کےمتعلق بتاتا رہا ۔
اُنہوں نے زندگی میں پہلی دفعہ ایک ساتھ بیٹھ کے ڈھیر ساری باتیں کرتے ہوئے لنچ کیا ۔۔ شام ڈھلے جب ارمان منتہیٰ کو ہولسیارڈ(ڈورم) چھوڑ کر پلٹا تو دل بہت مسرور تھا۔۔ “اگر اَرحم آج یہاں ہوتا تو مارے حیرت کے بے ہوش ہی ہو جاتا “۔۔
“آئرن لیڈی نے چنے چبانا چھوڑ دیئے تھے ۔۔ یا ۔۔یہ بہت دنوں کی تنہائی کا اثر تھا “۔۔؟؟
ارمان کو تیزی سے ایئر پورٹ پہنچنا تھا۔۔ اس کی رات دو بجے نیو ہاوان کی فلائٹ تھی ۔۔
ڈورم پہنچ کر منتہیٰ نے بیگ اپنے بیڈ پر رکھ کر کھولا ۔ امی نے اس کے کئی من پسند کھانے اپنے ہاتھوں سے پکا کر ٹن پیک میں بھیجے تھے ۔۔۔”مونگ کی دال ، آلو کے پراٹھے اور لہسن کا اچار ، مولی کی بھاجی”۔
۔۔””ماں کی محبت کا تو اِس دنیا میں کوئی مول ہی نہیں
رامین نے نے اس کے پسندیدہ ایمبرائیڈری والے کرتے اور سکارف بھیجے تھے ۔ابو نے پرفیوم اور یوسف انکل نے کچھ اسلا می کتابیں بھیجی تھیں ۔ او ر سب سے نیچے ایک مخروطی چھوٹے سے ڈبے کے اندر ایک نازک سا گولڈ بریسلٹ تھا ۔منتہیٰ
نے انگلی کی پوروں سے اسے چھوا۔ ارمان نے اسے پہلی دفعہ کوئی تحفہ دیا تھا۔۔ “مگر اسے تو جیولری کا کبھی کوئی شوق ہی نہیں رہا تھا”۔
اس نے ڈبہ بند کر کے رکھنا چاہا ۔تو ایک لمحے کو پیچھے لکھے الفاظ پر نگاہیں ٹہریں۔
“forever yours, Armaan”
اگلے رو ز منتہیٰ نے نینسی کو وہ سارے مزیدار کھانے کھلائے ۔۔ جو امی نے اُسے بھیجے تھے ۔۔
Meena! your Mom is really an excellent chef .. .. By the way, what
did Armaan present you??
نینسی نے منٹوں میں سب چَٹ کرتے ہی شرارت سے دیدے نچائے ‘ بہت کچھ سوچتے ہوئے منتہیٰ نے اُسے بریسلٹ دکھایا ۔۔ واؤ ۔۔ نائس چوائس ۔
“He really loves you”

جاری ہے
****************

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top