site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈے لائٹ سیونگ کا اختتام‘ گزرا وقت لوٹ آیا

موسمِ سرما کے آغاز میں ایک ایسا کام ہوتا ہے جسے دنیا کے تما م تر ممالک میں ناممکن سمجھا جاتا ہے‘ دنیا کے بیشتر ممالک میں گزرا وقت لوٹ آئے گا۔

جی ہاں ! دنیا کے بیشتر ممالک میں موسمِ سرما کے آغاز میں ڈے لائٹ سیونگ اختتام پذیر ہوتی ہے اور گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کردیا جاتا ہے‘ اس سبب امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کےبیشتر ممالک میں میں رہنے والے آج ایک گھنٹہ زیادہ سو سکیں گے۔

یہ تبدیلی امریکی وقت کے مطابق 6 نومبر کی رات 2 بجے عمل میں لائی جائے گی اور رات ۲ بجتے ہی انٹرنیٹ سے منسلک تمام گھڑیوں میں خود بخود وقت ایک گھنٹہ پیچھے ہوجائے گا۔ تاہم مشینی گھڑیوں میں یہ کام آ پ کو خود کرنا ہوگا۔

حکومت کے مطابق رات دو بجے کا وقت اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس سے کاروبارِ زندگی میں کم سے کم خلل پڑتا ہے اور رات 12 بجے یہ کام اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس سے نا صرف گیاوقت لوٹ آئے گا بلکہ گزرادن بھی لوٹ آئے گا جو کہ اوقات کار میں خلل کا سبب بنے گا، نئے اوقات کار مارچ 2017 تک نافذ العمل رہیں گے۔

اس عمل کا سہرا بنجمن فرینکلن کے سر بندھتا ہے جنہوں نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ عوام اگرموسمِ بہار میں اپنی گھڑیا ں ایک گھنٹا آگے کردیا کریں تو وہ دن کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ وقت کام کرسکیں گے اور توانائی کی بچت ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین آج تک یہ حتمی فیصلہ نہیں دے پائے کہ آیا اس عمل سے توانائی کی واقعی بچت ہوتی ہے یا یہ محض ایک مفروضہ ہے تاہم اس پر تحقیق جاری ہے۔

پاکستان میں بھی 21ویں صدی کی پہلی دہائی میں یہ تجربہ کیا گیا تھا لیکن عوام کو درست طریقے سے آگاہی فراہم نہ کرنے کے سبب بجلی بچت کے بجائے اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ سے اس عمل کو ترک کردیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top