The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی فلموں کے ڈانسنگ ہیرو اسماعیل شاہ کی برسی

پاکستان فلم انڈسٹری میں ڈانسنگ ہیرو کے طور پر بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے والے اسماعیل شاہ نے 1992ء میں آج ہی کے دن ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔

بلوچستان کے پسماندہ علاقے پشین سے تعلق رکھنے والے اسماعیل شاہ نہ صرف سنیما کے شائقین میں مقبول تھے بلکہ فلم سازوں کی اوّلین ترجیح تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ رقص میں ان کی مہارت تھی۔ وہ ایک باصلاحیت فن کار تھے۔ اس دور میں پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور اداکار اور مقبول ترین ہیرو بھی متاثر کن ڈانسر نہیں تھے جب کہ اسماعیل شاہ کی صورت میں‌ ہدایت کاروں کو ایک نوجوان اور ایکشن فلموں‌ کے لیے موزوں چہرہ ہی نہیں‌ بہترین ڈانسر بھی مل گیا۔ وہ فلم انڈسٹری کے ڈانسنگ ہیرو مشہور ہوئے۔

اپنی شان دار اداکاری اور معیاری ڈانس کی بدولت شہرت کا زینہ طے کرنے والے اسماعیل شاہ فلم ’’ناچے ناگن‘‘ سے گویا راتوں رات شائقین میں مقبول ہوگئے۔ اس فلم کی کام یابی کے بعد انڈسٹری میں‌ ہر طرف ان کا چرچا ہونے لگا۔ فلم ناچے ناگن 1989ء میں منظرِ عام پر آئی اور ملک بھر میں اسے پزیرائی ملی۔ تاہم اسماعیل شاہ کی پہلی فلم ’’باغی قیدی‘‘ تھی۔

فلم اسٹار اسماعیل شاہ نے مجموعی طور پر 70 فلموں میں کام کیا جن میں اردو، پنجابی اور پشتو زبانوں‌ میں بننے والی فلمیں‌ شامل ہیں۔

وہ 1962ء میں پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کوئٹہ سے کیا۔ کوئٹہ ریڈیو اور پھر کوئٹہ ٹی وی سے وابستہ ہوئے۔ اسماعیل شاہ کو‌ بچپن ہی سے اداکاری کا شوق تھا۔ یہی شوق اور ان کی لگن 1975ء میں انھیں‌ پاکستان ٹیلی وژن کے کوئٹہ مرکز تک لے گئی اور بلوچی ڈراموں سے ان کے کیریئر کا آغاز ہوا۔ اسماعیل شاہ نے اردو زبان کے مشہور ڈرامہ ’’ریگ بان‘‘ اور ’’شاہین‘‘ میں بھی کردار نبھائے اور ناظرین نے انھیں پسند کیا۔

لو اِن نیپال، لیڈی اسمگلر، باغی قیدی، جوشیلا دشمن، منیلا کے جانباز، کرائے کے قاتل اور وطن کے رکھوالے اسماعیل شاہ کی مشہور اور کام یاب فلمیں‌ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں