The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی کے وفادار سیاست دان امین فہیم شاعر بھی تھے

مخدوم امین فہیم رومی، شاہ عبدُاللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے شیدا و پرستار تھے۔ وہ ان بزرگوں کے فلسفۂ حیات اور شاعری سے بے حد متاثر تھے اور کہتے تھے کہ انہی کے کلام نے انھیں محبّت اور وفا کرنا سکھایا ہے۔ آج مخدوم امین فہیم کی برسی ہے۔

21 نومبر 2015ء کو کراچی میں‌ وفات پانے والے امین فہیم سندھ کی سروری جماعت کے روحانی پیشوا بھی تھے جس کے سندھ بھر میں مریدین اور عقیدت مند موجود ہیں۔

بلاشبہ مخدوم خاندان نے سندھ کے شہر ہالا کو روحانی اور سیاسی پہچان دی اور سیاست کے علاوہ اس خاندان کی شخصیات کو سماجی کاموں اور بالخصوص علم و ادب سے اپنے شغف اور تخلیقی کاموں کے سبب امتیاز حاصل ہوا۔

مخدوم امین فہیم بھی شاعر تھے جن کے دو مجموعہ ہائے کلام زیورِ طبع سے آراستہ ہوئے اور قارئین تک پہنچے۔ انھیں دھیمے مزاج کا مالک اور ایک غیر متنازع شخصیت مانا جاتا تھا، جن کا سیاسی کیریئر بے داغ رہا، لیکن بے نظیر بھٹو کی الم ناک موت کے بعد امین فہیم کو بعض الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور سیاسی میدان میں مخدوم خاندان کے پیپلز پارٹی سے فاصلے بھی بڑھ گئے۔

امین فہیم کے والد مخدوم محمد زمان طالبُ المولیٰ ایک وضع دار اور بااصول انسان تھے۔ وہ شاعر اور ادیب بھی تھے جن کی متعدد تصانیف شایع ہوئیں۔ مخدوم خاندان شروع ہی سے اپنے وقت کے ایک کامل بزرگ حضرت لطفُ اللہ مخدوم نوح صدیقی سہروردیؒ کا ارادت مند رہا اور طالبُ المولیٰ ان بزرگ کے روحانی سلسلے کے سولہویں سجادہ نشین بنے۔ وہ 1993ء میں وفات پاگئے تھے اور امین فہیم سروری جماعت کے روحانی پیشوا چنے گئے۔

ہالا کی روحانی اور سماجی شخصیت طالبِ المولیٰ کا سیاسی سفر پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوا اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کے قریب آئے جس میں کئی مرتبہ قیادت سے اختلاف اور ناراض بھی ہوئے، مگر ان کا خاندان ہر موقع پر پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا رہا۔ پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑنے کی اسی “روایت” کو امین فہیم نے بھی نبھایا، لیکن محترمہ کے بعد ان کے اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت سے تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔

پی پی پی کے ساتھ اپنے سیاسی سفر میں مخدوم امین فہیم تین مرتبہ وزراتِ عظمیٰ کی کرسی کے قریب پہنچے، لیکن کبھی سیاسی وفاداری تو کبھی پارٹی قیادت کی وجہ سے وہ اس کرسی پر براجمان نہ ہو سکے۔ ملک میں‌ ضیاءُ الحق کے دور میں انھیں اس منصب کی پیشکش ہوئی، اور پرویز مشرف نے بھی انھیں یہ آفر کی، لیکن مخدوم خاندان نے اسے دونوں بار مسترد کردیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد بھی وزارتِ‌ عظمیٰ کے منصب کے لیے مخدوم امین فہیم کا نام لیا جارہا تھا، لیکن پارٹی کی قیادت نے مخدوم یوسف رضا گیلانی کو اس منصب کے لیے نام زد کیا۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور مخدوم خاندان میں‌ اختلافات اور دوریوں کے عرصہ میں مخدوم امین فہیم کی شخصیت متنازع بن رہی اور ان پر یہ الزامات لگائے گئے کہ وہ بے نظیر کی شہادت سے پہلے اور بعد میں پرویز مشرف سے رابطے میں رہے اور ان کی قیادت میں پارٹی میں‌ فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن ایسا کوئی بلاک سامنے نہیں‌ آیا۔

مخدوم امین فہیم 4 اگست 1939ء کو ہالا میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں‌ پیپلز پارٹی کا پہلا کنونشن منعقد کیا گیا تھا۔ 1958ء انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور 1970ء میں‌ عملی سیاست میں قدم رکھا۔ مخدوم امین فہیم نے چار شادیاں کی تھیں۔

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار ٹھٹھہ سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور اس کے بعد مسلسل عام انتخابات میں کام یابی ان کا مقدّر بنتی رہی۔ وہ پارٹی کے اُن راہ نماؤں میں سے تھے جو غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے کسی انتخابی عمل کا حصّہ نہیں‌ بنے اور ہر پیشکش ٹھکرا دی۔

جب بے نظیر بھٹو ملک سے باہر خود ساختہ جلا وطنی کے دن کاٹ رہی تھیں، تو اس زمانے میں پاکستان میں سیاست دانوں اور ہر قسم کے رابطے اور اہم معاملات کی ذمہ داری مخدوم امین فہیم پر عائد تھی جو اُن کی سیاسی بصیرت اور سوجھ بوجھ کے ساتھ اُن پر محترمہ کے اعتماد کا بھی مظہر تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز رجسٹرڈ ہوئی تو اس کی قیادت بھی مخدوم امین فہیم کو سونپی گئی تھی۔

سیاست، روحانیت کے ساتھ علم و ادب سے وابستہ امین فہیم کے دادا بھی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے جن کی دو اولادیں بھی ادیب اور شاعر ہوئیں، اور انہی میں‌ سے ایک امین فہیم کے والد تھے۔ مخدوم امین فہیم نے شاعری میں اپنے والد سے اصلاح لی۔

امین فہیم نے وفاقی وزیر کی حیثیت سے بے نظیر بھٹو کے 1988ء سے 1990ء تک کے اوّلین دورِ حکومت میں مواصلات جب کہ 1994ء سے 1996ء تک حکومتی دور میں ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کی وزارت سنبھالی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں