The news is by your side.

Advertisement

پشتو کے نام ور شاعر اور ادیب امیر حمزہ خاں شنواری کی برسی

قومی زبان کے علاوہ پاکستان میں مقامی زبانوں میں بھی تخلیق کاروں اور اہلِ‌ قلم نے نثر و نظم دونوں اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی ہے اس حوالے سے پشتو زبان و ادب کی بات کی جائے تو ایک اہم نام امیر حمزہ خاں شنواری کا ہے جن کا آج یومِ‌ وفات ہے۔ وہ پشتو کے ممتاز شاعر اور ادیب تھے۔ انھوں نے 18 فروری 1994ء کو وفات پائی۔

امیر حمزہ خاں شنواری ستمبر 1907ء میں خوگا خیل، لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے پشتو زبان میں ادب کی مختلف اصناف پر کام کیا اور ان کی کئی نثری اور شعری کتب شایع ہوئیں‌۔ ان میں تجلیاتِ محمدیہ، وجود و شہود، جبر و اختیار، انسان اور زندگی اور نوی چپی اور شعری مجموعوں میں غزونے، پیروونے، یون، سلگی، بھیر، سپرلے پہ آئینہ کے، صدائے دل اور کلیاتِ حمزہ شامل ہیں۔ انھوں نے اردو میں‌ بھی شاعری کی ہے، لیکن جلد پشتو غزل گوئی اور دیگر اصنافِ سخن کی طرف مائل ہو گئے تھے۔

امیر حمزہ خاں شنواری نے سفر نامے بھی تحریر کیے جو کتابی شکل میں شایع ہوئے۔ انھوں نے شاعرِ مشرق علاّمہ اقبال، نام ور شاعر صبا اکبر آبادی کے کلام کو پشتو میں‌ منتقل کیا اور مشہور صوفی شاعر رحمٰن بابا پر بھی مضامین اور ان کے کام کو اکٹھا کرکے پشتو میں کتابی شکل میں پیش کیا۔

حکومتِ پاکستان نے امیر حمزہ خاں شنواری کی علمی اور ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں