The news is by your side.

Advertisement

معروف شاعر آرزو لکھنوی کا یومِ وفات

آج اردو کے معروف شاعر آرزو لکھنوی کا یومِ وفات ہے۔ 16 اپریل 1951ء کو کراچی میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لینے والے اس شاعر نے اپنے دور میں روایت سے ہٹ کر اپنے کلام کو نہ صرف رعایتِ لفظی، تشبیہات اور خوب صورت استعاروں سجایا بلکہ ‌نکتہ آفرینی کے سبب اپنے عہد کے منفرد اور مقبول شاعر کہلائے۔

اردو کے اس خوش فکر شاعر کا اصل نام سید انوار حسین تھا۔ وہ لکھنؤ کے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کا اوڑھنا بچھونا علم و ادب اور شاعری تھا۔

آرزو نے نوعمری میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ غزل ان کی محبوب صنفِ سخن تھی جس کے ساتھ ساتھ انھوں نے فلموں کے لیے گیت نگاری کا سلسلہ بھی شروع کردیا، بعد میں نثر میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ریڈیو کے لیے چند ڈرامے جب کہ فلموں کے مکالمے بھی لکھے، لیکن ان کی وجہِ شہرت شاعری اور خاص طور پر غزلیں ہیں۔

آرزو لکھنوی نے جن فلموں کے مکالمے لکھے ان میں اسٹریٹ سنگر، جوانی کی ریت، لگن، لالہ جی، روٹی، پرایا دھن اور دیگر شامل ہیں۔ اس زمانے میں کلکتہ فلم اور تھیٹر سے متعلق سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا جہاں اس سلسلے میں آرزو نے بھی قیام کیا۔

اردو زبان کے اس معروف شاعر کا کلام فغانِ آرزو، جہانِ آرزو اور سریلی بانسری کے عنوان سے کتابوں میں محفوظ ہے۔ آرزو لکھنوی کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے۔

دفعتاً ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہے
الجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

وفا تم سے کریں گے، دکھ سہیں گے، ناز اٹھائیں گے
جسے آتا ہے دل دینا اسے ہر کام آتا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں