The news is by your side.

Advertisement

یومِ‌ وفات: ہاری راہ نما اور شاعر حیدر بخش جتوئی کو بابائے سندھ بھی کہا جاتا ہے

سندھ کے مشہور ہاری راہ نما اور شاعر حیدر بخش جتوئی 21 مئی 1970ء کو اس دارِ فانی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔

7 اکتوبر 1900ء کو ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہونے والے حیدر بخش جتوئی نے 1922ء میں بمبئی یونیورسٹی سے گریجویشن اور اگلے برس آنرز کیا۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت اختیار کی اور ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی کلکٹر کے عہدے تک پہنچے۔

اس وقت ہندوستان میں‌ ہر طرف آزادی کے ترانے گونج رہے تھے اور مختلف سیاسی اور سماجی تحاریک زوروں پر تھیں‌۔ حیدر بخش جتوئی بھی مختلف سیاسی اور سماجی نظریات سے متاثر تھے اور آزادی کی ترنگ کے ساتھ ان میں عوام اور مزدوروں کے حقوق کی بحالی اور سہولیات کے حصول کرنے کا جوش اور جذبہ بھی موجود تھا جس نے انھیں میدانِ عمل میں اترنے پر آمادہ کیا۔ 1943ء میں حیدر بخش جتوئی نے سرکاری ملازمت کو خیر باد کہا اور ہاریوں کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ 1946ء میں وہ سندھ ہاری کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1950ء میں ہاری کونسل نے ان کا مرتب کردہ آئین منظور کیا اور اسی برس ان کی جدوجہد کے نتیجے میں اس وقت کی حکومتِ سندھ نے قانونِ زراعت منظور کیا۔

حیدر بخش جتوئی نے ہاری حقوق کی جدوجہد میں زندگی کے سات برس جیل میں گزارے۔ اس جدوجہد اور قید و بند کے دوران انھوں نے اپنی فکر اور فلسفے کو شاعری میں بیان کیا۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر تھے۔ متحدہ ہندوستان میں جدوجہدِ آزادی پر لکھی گئی ان کی نظم کو ایک شاہ کار کا درجہ حاصل ہے۔

1969ء میں فالج کے حملے کے باعث وہ صاحبِ فراش ہوگئے تھے۔ حیدر بخش جتوئی کو سندھ کے عوام نے ’’بابائے سندھ‘‘ کا لقب دیا تھا۔ 2000ء میں حکومتِ پاکستان نے انھیں ہلالِ امتیاز عطا کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں