The news is by your side.

Advertisement

خاکسار تحریک کے بانی، ادیب، خطیب اور عالمِ دین علّامہ عنایتُ اللہ مشرقی کی برسی

خاکسار تحریک کے بانی، ادیب، عالمِ دین اور ممتاز ریاضی دان علاّمہ عنایت اللہ مشرقی 1963ء آج ہی کے دن دارِ فانی سے عالمِ‌ جاودانی کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کا مدفن لاہور میں ہے۔

علّامہ عنایت اللہ مشرقی 25 اگست 1883ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور شان دار تعلیمی ریکارڈ کی وجہ سے ہندوستان میں نمایاں ہوئے۔ کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے ریاضی اور طبیعیات کے شعبوں میں اعلیٰ امتیازات حاصل کیے۔ وہ اسلامی تعلیمات اور مشرقی ثقافت کے دل دادہ ایسے فرد تھے جس نے ہندوستان میں اپنی تحریر، تقریر اور قول و عمل سے مسلمانوں کو ان کے اسلاف کے کارناموں اور اجداد کی میراث کی جانب متوجہ کیا۔

1926ء میں مصر میں موتمر اسلامی کی کانفرنس میں‌ جہاں‌ دنیا بھر کے ہوش مند اور صاحبِ علم مسلمان راہ نماؤں نے شرکت کی وہیں علّامہ مشرقی بھی مدعو تھے۔ کانفرنس میں انھوں نے عربی زبان میں خطاب کیا جو ’’خطابِ مصر‘‘ کے نام سے شایع ہوا۔ انھوں نے 1931ء میں خاکسار تحریک کے نام سے ایک جماعت قائم کی، جس کا منشور نظم، ضبط، خدمت خلق اور اطاعتِ امیر تھا۔ اس پلیٹ فارم سے علامہ مشرقی کی آواز پر آزادی کی تڑپ رکھنے والے مسلمانوں نے اپنی قوّت کا مظاہرہ شروع کیا تھا۔

1950ء میں علّامہ صاحب نے ’’انسانی مسئلہ‘‘ نامی مقالہ لکھ کر دنیا بھر میں‌ ہوش مند انسانوں کو چونکا دیا۔ اس مقالہ میں صاحبِ علم یعنی سائنس دانوں کو حکومت کرنے کا حق حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی تھی جو ان کے ذہن کی اختراع تھی۔ اس کے ساتھ ہی طبقاتی انتخاب میں غریب کی حکومت قائم کرنے کا قابل عمل تصور دیا گیا تھا۔ بیرونی دباؤ پر انگریز حکومت نے علّامہ مشرقی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔

ان کے علمی و دینی کارنامے اور ہندوستان میں انگریز راج کے خلاف ان کی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد کئی ابواب کا تقاضا کرتی ہے دین ِاسلام کے غلبے اور مسلمانوں کی آزادی کے لیے انتھک جدوجہد کرنے والا یہ عظیم انسان ایک بلند پایہ انشا پرداز، فلسفی اور مؤرخ بھی تھا۔ ان کی متعدد مذہبی اور دینی کتب اور علمی و ادبی تصنیف شایع ہوچکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں