The news is by your side.

بااختیار، دولت مند اور باپردہ مغل شہزادی جہاں آرا کا تذکرہ

1964ء میں ہندی سنیما کے شائقین نے اداکارہ مالا سنہا کو مشہور مغل شہزادی جہاں آرا کے روپ میں بڑے پردے پر دیکھا۔ اس کے ہدایت کار ونود کمار تھے جن کی اس پہلی ہندی فلم میں جہاں آرا بیگم کو بھی پہلی بار بڑی اسکرین پر پیش کیا گیا تھا۔

آج اسی شہزادی کا یومِ‌ وفات ہے۔ شہنشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز محل کی بیٹی جہاں آرا کو مغل دور میں‌ خاص اہمیت اور مقام حاصل رہا ہے اور ہندوستانی ہی نہیں‌ غیر ملکی محققین اور مؤرخین نے بھی ان بارے میں‌ یہی کچھ لکھا ہے۔

جہاں آرا بیگم کو امیر ترین، بااختیار اور ایک ایسی شہزادی لکھا گیا ہے جو باپردہ اور اولیا و صوفیا کی ارادت مند تھی۔ یہی نہیں‌ بلکہ علم و ادب سے شغف اور زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا اور فارسی زبان میں دو تصانیف بھی یادگار چھوڑی ہیں۔

جہاں آرا کا سنِ پیدائش تاریخ کے اوراق میں 1614ء درج ہے جب کہ 1681ء میں وہ آج ہی کے دن دارِ فانی سے کوچ کرگئی تھیں۔ آئیے ان کی زندگی کے اوراق الٹتے ہیں۔

تعلیم و تربیت
جہاں آرا کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی اور جب وہ کچھ عرصہ دکن میں‌ قیام پذیر رہی، وہاں بھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہا اور ایک استانی مقرر کردی گئی تھی۔ مؤرخین کے مطابق ایک درباری کی اہلیہ ہری خانم بیگم نے انھیں شاہی طور طریقہ سکھایا۔ جہاں آرا کو عالم فاضل بھی لکھا گیا ہے۔

اس شہزادی کا تذکرہ اور مؤرخین کے اس سے متعلق واقعات کا تسلسل بھی مغل دور میں‌ اس کی حیثیت اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

حسن و جمال
تاریخی کتب میں لکھا ہے، ‘جہاں آرا بیگم خاندانِ مغلیہ میں بلحاظ سیرت اور صورت ایک بے نظیر بیگم گزری ہے۔ دولتِ کمال کی طرح ملکِ حسن و جمال بھی ان کے زیرِ نگیں تھا۔ وہ نہایت درجہ حسین اور پری پیکر تھیں۔’

دولت اور جاگیریں
ان کی دولت کا ذکر کرتے ہوئے مؤرخین لکھتے ہیں کہ ‘شاہ جہان نے اپنی پیاری بیٹی کو بہت بڑی جاگير عطا کی تھی۔ انھیں جاگیر میں جو علاقے عنایت کیے گئے تھے وہ بہت زیادہ زرخیز تھے۔ ملک سورت جو نہایت شاداب صوبہ تھا شاہ جہان نے بطور جاگیر عطا کیا تھا جس کی سالانہ آمدن ساڑھے سات لاکھ تھی۔ اسی کے ساتھ انھیں سورت بندرگاہ بھی دے دی گئی تھی جس میں ہمیشہ مختلف ممالک کے تاجروں کی آمدورفت رہا کرتی تھی۔ اور ان کے محاصل میں پانچ لاکھ سے کچھ زیادہ روپے آتے تھے۔ اعظم گڑھ، انبالہ، وغیرہ کے زرخیز مقامات بھی ان کی جاگیر میں شامل تھے۔

اس قدر دولت اور جاگیر کی مالک ہونے کے باوجود جہاں آرا خود کو فقیر کہتی تھیں۔ وہ سادگی پسند تھیں اور کہتے ہیں کہ ساری زندگی پردے کا بہت خیال رکھا۔ تاہم محل سے باہر جانا ہوتا تو بڑی شان و شوکت سے ان کی سواری نکلتی، لیکن پردے کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔ مؤرخین نے جہاں آرا کو مغل عہد کی سب سے تہذیب یافتہ خواتین میں شمار کیا ہے۔

والدہ کی وفات اور ذمہ داریاں
جہاں آرا اپنی والدہ ممتاز بیگم کے انتقال کے وقت محض 17 سال کی تھیں۔وہ ملکۂ ہندوستان تو نہیں تھیں لیکن والدہ کی موت کے بعد مغل سلطنت کی سب سے بااختیار اور طاقت ور خاتون رہیں۔ انھیں بادشاہ بیگم کا خطاب دیا گیا اور حرم کی ذمہ داری نوجوانی ہی میں ان پر ڈال دی گئی تھی۔

حادثہ
ایک مرتبہ جہاں آرا کے ساتھ بڑا حادثہ پیش آیا، وہ جل گئی تھیں، تقریبا آٹھ ماہ تک صاحب فراش رہیں اور ان کے مکمل صحّت یاب ہونے کی خوشی میں بادشاہ نے خزانے کا منہ کھول دیا تھا۔ یہ واقعہ 1644ء کا بتایا جاتا ہے جب وہ قلعہ کے اندر چہل قدمی کر رہی تھیں اور راہ داری میں روشن ایک مشعل سے ان کے ملبوس نے آگ پکڑ لی تھی۔

بیماری اور موت
مؤرخین نے لکھا ہے کہ جہاں آرا نے بسترِ مرگ پر کہا کہ ان کی آخری آرام گاہ صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے مزار کے قریب ہو۔ اور اپنے لوحِ‌ مزار پر ایک شعر کندہ کرنے کو کہا۔ ان کی خواہش کے مطابق انھیں دہلی میں اسی مزار کے قریب دفن کیا گیا۔

مغل شہزادی کی وصیّت تھی کہ ان کی قبر کو پکّا نہ کیا جائے اور اس پر بھی عمل کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں