The news is by your side.

Advertisement

‘نقوش’ کے مدیر اور شخصیت و خاکہ نگار محمد طفیل کی برسی

معروف ادیب اور مشہور ادبی جریدے ’’نقوش‘‘ کے مدیر محمد طفیل 5 جولائی 1986ء کو وفات پاگئے تھے۔ محمد طفیل خاکہ نگار بھی تھے۔ انھوں‌ نے شخصیت اور تذکرہ نویسی کے علاوہ علمی و ادبی شخصیات سے خط و کتابت کو بھی اہمیت دی اور یہ خطوط اردو ادب میں معتبر و مستند ہیں۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انھیں محمد نقوش کا خطاب دیا تھا۔

محمد طفیل 14 اگست 1923ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے وقت کے استاد اور نام وَر خطّاط تاج الدین زرّیں رقم سے خوش نویسی کی تربیت حاصل کی تھی۔ 1944ء میں انھوں نے ادارۂ فروغِ اردو کے نام سے ایک طباعتی ادارہ قائم کیا اور 1948ء میں ایک ماہ نامہ نقوش کا اجرا کیا۔ لاہور سے شایع ہونے والے اس جریدے کے 18 شماروں کی اشاعت کے بعد محمد طفیل نے اس کی ادارت کی ذمہ داری خود سنبھال لی۔

ان کی ادارت میں نقوش کام یابی سے طباعت اور اشاعت کے مراحل طے کرتے ہوئے ہر لحاظ سے معیاری اور ممتاز جریدہ ثابت ہوا جس میں اپنے وقت کے بلند پایہ اور نام ور شعرا اور نثّار کی تخلیقات شایع ہوئیں۔

نقوش کے تحت غزل و افسانہ پر خصوصی شماروں کے علاوہ شخصیات نمبر، خطوط نمبر، آپ بیتی، طنز و مزاح نمبر شایع ہوئے جب کہ منٹو، میر، غالب، اقبال، انیس جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی تخلیقات اور تذکروں پر مبنی شمارے اور مختلف ادبی موضوعات پر خصوصی اجرا شامل ہیں۔

محمد طفیل خاکہ نگار بھی تھے، ان کے خاکوں‌ کے مجموعے صاحب، جناب، آپ، محترم، مکرّم، معظّم، محبّی اور مخدومی کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی خود نوشت بعد از وفات ناچیز کے عنوان سے نقوش کے محمد طفیل نمبر میں شایع کی گئی۔

محمد طفیل کو حکومتِ پاکستان نے ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ وہ میانی صاحب لاہور میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں