The news is by your side.

Advertisement

نوح ناروی کا تذکرہ جو استاد داغ کے بعد ان کے جانشین بنے

نوح ناروی استاد شاعر داغ دہلوی کے شاگرد تھے جو بعد میں ان جانشین بنے۔ اردو ادب میں انھیں ایک ایسے شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے روایتی موضوعات اور عام بندشوں کو اپنے مخصوص کلاسیکی رنگ میں خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔

نوح ان شاعروں میں سے ہیں جنھوں نے اپنے تخلص کو اپنی شاعری کی صورت گری میں بہت جگہ دی۔ ان کے مجموعوں کے نام اس کی عمدہ مثال ہیں جن میں سفینہ نوح ، طوفانِ نوح ، اعجازِ نوح شامل ہیں۔

ان کا اصل نام محمد نوح تھا۔ تخلّص بھی نوح اختیار کیا۔ تذکروں میں ان کا سنِ‌ پیدائش 1878ء لکھا ہے جب کہ ضلع رائے بریلی ان کا آبائی وطن تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، اس کے بعد میر نجف علی سے فارسی، عربی کا درس لیا اور ان زبانوں میں کمال حاصل کیا۔

نوح جو حضرت داغ دہلوی کے شاگرد تھے، اپنی شاعری میں اسی بانکپن اور بے باکی کے لیے پہچانے گئے جو داغ کا خاصہ تھا۔ حسن و عشق کے موضوعات کو انھوں نے خوب صورتی سے اپنے اشعار میں‌ برتا ہے۔

10 اکتوبر 1962ء اردو زبان کے اس شاعر نے وفات پائی۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

محفل میں تیری آ کے یوں بے آبرو ہوئے
پہلے تھے آپ، آپ سے تم، تم سے تُو ہوئے

ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں
پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں

اللہ رے ان کے حسن کی معجز نمائیاں
جس بام پر وہ آئیں وہی کوہِ طور ہو

ستیا ناس ہو گیا دل کا
عشق نے خوب کی اکھاڑ پچھاڑ

Comments

یہ بھی پڑھیں