The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات: شعر و ادب میں‌ ممتاز حمایت علی شاعر نے فلموں میں اداکاری بھی کی

آج اردو کے ممتاز شاعر اور فلمی گیت نگار حمایت علی شاعر کی برسی منائی جارہی ہے۔ وہ تدریس اور ادارت سے وابستہ رہے اور ریڈیو، ٹیلی ویژن پر کام کرنے ساتھ فلموں میں‌ اداکاری بھی کی۔ حمایت علی شاعر 2019ء میں‌ آج ہی دن دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔

وہ 14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد، دکن میں‌ پیدا ہوئے، تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے اور سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انھوں نے روزناموں میں کام کرنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کر لی۔ شاعری کا آغاز کیا تو غزل اور نظم جیسی اصناف میں طبع آزمائی کے ساتھ فلموں کے لیے نغمات بھی لکھنے لگے۔ ان کے کئی گیت بہت مقبول ہوئے۔

حمایت علی شاعر نے جہاں اردو ادب کو اپنے کلام کی شکل میں خوب صورت شاعری دی، وہیں ایک پختہ اور بلند فکر تخلیق کار کی‌ حیثیت سے انھوں نے شاعری میں ’’ثلاثی‘‘ جیسی صنف بھی متعارف کروائی جو تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ خوب صورت صنفِ سخن اگرچہ مقبول اصناف کے درمیان زیادہ توجہ حاصل نہیں کرپائی، لیکن کسی خیال کی بندش اور جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے مؤثر اور لطیف ذریعہ ضرور ہے۔ حمایت علی شاعر نے اس صنف میں‌ اپنا کلام بھی پیش کیا جو ندرتِ خیال و وارفتہ جذبات کا نمونہ ہے۔

وہ متعدد ادبی اور تحقیقی کتب کے مصنّف بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں‌ ’آگ میں پھول‘، ’شکستِ آرزو‘، ’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘، ’حرف حرف روشنی‘، ’دودِ چراغِ محفل‘(مختلف شعرا کے کلام)، ’عقیدت کا سفر‘(نعتیہ شاعری کے ساتھ سو سال، تحقیق)، ’آئینہ در آئینہ‘(منظوم خودنوشت سوانح حیات)، ’ہارون کی آواز‘(نظمیں اور غزلیں)، ’تجھ کو معلوم نہیں‘(فلمی نغمات)، ’کھلتے کنول سے لوگ‘(دکنی شعرا کا تذکرہ)، ’محبتوں کے سفیر‘(پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام) شامل ہیں۔

انھیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسنِ‌ کارکردگی جب کہ نغمہ نگاری پر فلمی دنیا کا معتبر نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ حمایت علی شاعر کینیڈا میں‌ مقیم تھے اور وفات کے بعد وہیں‌ ان کی تدفین کی گئی۔

حمایت علی شاعر نے فلموں میں بھی کام کیا تھا جن میں جب سے دیکھا تمہیں، دل نے تجھے مان لیا، دامن، ایک تیرا سہارا، کنیز، میرے محبوب، تصویر اور کھلونا شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں