The news is by your side.

Advertisement

سفیرِ قرآن اور صوتُ المکّہ کا خطاب پانے والے قاری عبدُالباسط کی برسی

علومِ قرآنی اور فنِ قرأت و تجوید میں کمال اور اس بنیاد پر عالمِ‌ اسلام میں بڑی عزّت و مرتبہ اور پذیرائی حاصل کرنے والوں میں سَر زمینِ مصر کے شیخ قاری عبدُالباسط محمد عبدالصّمد کا نام بھی شامل ہے۔ انھیں قدرت نے بے مثال آواز اور دل پذیر لحن سے نوازا تھا۔

آج فنِ قرأت میں عالمی شہرت یافتہ قاری عبدالباسط کا یومِ‌ وفات ہے۔ انھیں ’’سفیرِ قرآن، صوتُ المکّہ، صوتُ الجنّتہ‘‘ اور ’’لحنِ طلائی‘‘ کے خطابات سے نوازا گیا تھا۔

قاری عبدالباسط 30 نومبر 1988ء کو خالقِ حقیقی سے جاملے۔ 1970ء کی دہائی میں انھوں نے تین عالمی مقابلوں میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ انھوں‌ نے دنیا کے کئی ممالک میں مسلمان تنظیموں اور غیر مسلم اسکالروں کی دعوت پر روحانی اجتماعات کے دوران کلامِ پاک کی تلاوت کی اور لوگوں کو سحر زدہ کردیا۔ مسلمان ہی نہیں‌ غیر مسلم بھی ان کی قرأت سن کر وجد و سرور کی کیفیت سے دوچار ہو جاتے تھے۔ انھوں نے کئی ممالک کے سربراہان اور اہم حکومتی عہدے داروں کے سامنے قرآن کی آیات کی تلاوت کی۔

وہ 1927ء میں جنوبی مصر کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عبدالصمد ایک دینی شخصیت تھے۔ قاری عبدالباسط اپنے دور کے مقبول ترین قاری شیخ محمد رفاض کی تلاوت سے بے حد متاثر تھے۔ وہ انھیں سنتے اور کلامِ پاک ان کی عظمت اور ان کی آواز کی شیرینی کے قائل ہوجاتے۔ انھوں نے بھی تلاوتِ قرآن کو معمول بنایا اور فنِ قرأت میں کمال حاصل کرتے چلے گئے۔ انھوں نے عہد کیا کہ وہ حفظ قرآن کے ساتھ قاری بنیں‌ گے۔

انھوں‌ نے علومِ قرآنی اور فنِ قرأت و تجوید سیکھنا شروع کیا اور بالخصوص رمضان المبارک میں بڑی مساجد میں ان کی قرأت میں تروایح ادا کی جانے لگی۔ ان کے استاد اور سرپرست، شیخ محمد سالم نے بھی ان کی تربیت اور حوصلہ افزائی کی اور وہ مصر بھر میں مشہور ہوگئے۔

1950ء میں قاری عبدُالباسط کی عمر صرف 23 برس تھی جب قاہرہ کی مسجدِ سیّدہ زینب میں منعقدہ ایک بڑی محفلِ قرأت میں انھوں‌ نے سورۃ غاشیہ کی تلاوت کی جس پر وہاں موجود تمام لوگ دَم بخود رہ گئے۔ فرطِ جذبات اور عالمِ سرشاری میں لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ گئے اور ہر طرف سبحان اللہ کی صدا بلند ہونے لگی جس کے بعد قاری عبدُالباسط کی کام یابیوں اور مقبولیت کا نیا دور شروع ہوا۔

1951ء سے ریڈیو پر ان کی قرأت نشر ہونے لگی اور اگلے سال وہ قاہرہ کی جامع مسجد امام الشافعیؒ کے قاری مقرر کردیے گئے۔ بعد میں عرب ممالک سے انھیں‌ دعوت دے کر قرأت سننے کے لیے بلایا جانے لگا۔ انھیں مسجدُ الحرام اور مسجدِ نبوی میں تلاوت کا شرف حاصل ہوا اور سعودی حکومت نے ’’صوتُ المکّہ‘‘ کا خطاب دیا۔

عمر کے آخری حصّے میں قاری عبدُالباسط ذیابیطس اور جگر کے عوارض کے باعث کم زور ہوگئے تھے۔ اور ایک کار حادثے میں زخمی ہونے کے بعد 61 برس کی عمر میں وفات پائی۔ قاری عبدُالباسط دو مرتبہ پاکستان بھی تشریف لائے تھے اور پہلی مرتبہ کراچی میں‌ ’’عالمی محفلِ حسنِ قرأت‘‘ میں شریک ہوئے جب کہ وفات سے کچھ عرصہ قبل دوسری بار ناسازئ طبع کے باوجود بادشاہی مسجد لاہور میں ان کی قرأت سنی گئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں