The news is by your side.

Advertisement

قاضی فیض محمد: سندھ کے سیاسی و سماجی حقوق کے لیے جدوجہد کا تذکرہ

قاضی فیض محمد سندھ دھرتی کے وہ فرزند تھے، جو سیاسی و سماجی مسائل کی آگاہی اور تاریخ کا شعور رکھتے تھے اور انھوں نے متحدہ ہندوستان کے زمانے میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادب بھی تخلیق کیا۔

قاضی فیض محمد نے اپنے دور میں معروف سیاست دانوں اور قوم پرست راہ نماؤں کے ساتھ مل کر ہاریوں، مزدوروں اور محنت کشوں سمیت معاشرے کے محروم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد میں حصّہ لیا۔ انھوں نے سندھ کے حقوق کے لیے ہر سیاسی پلیٹ فارم استعمال کیا۔

23 نومبر 1908ء کو پیدا ہونے والے قاضی فیض‌ محمد کے نام اور ان کے کام سے‌ آج نوجوان نسل شاید ہی واقف ہو۔ وہ 13 اکتوبر 1982ء کو وفات پاگئے تھے۔

صوبہ سندھ کے قاضی فیض محمد ضلع نوشہرو فیروز کی تحصیل محراب پور کے شہر ہالانی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہالانی اور بعد میں خیرپور اور نوشہرو فیروز سے تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے 1929ء میں میٹرک پاس کیا۔ 1940ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر کے نواب شاہ میں وکالت کا سلسلہ شروع کیا۔

انھوں نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں منھنجو خواب، دردن سندو داستان، منھنجو سفر اور دو ناول جنسار، انجان قابل ذکر ہے۔

انھوں نے خاکسار تحریک سے وابستگی کے دوران ہی سندھ ہاری کمیٹی کے رکن بنے اور کئی سیاسی جماعتوں کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت اور فکری وجدان نے انھیں سندھ کے قومی حقوق کے حصول کی جنگ کو اپنے واضح فکری اور نظریاتی رجحانات کے ساتھ پانچ دہائیوں تک سیاست میں متحرک و فعال رکھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں