The news is by your side.

Advertisement

اردو کے ممتاز مزاح نگار شفیق الرحمٰن کی برسی

آج اردو کے نام وَر ادیب اور ممتاز مزاح نگار شفیق الرحمٰن کی برسی منائی جارہی ہے۔ وہ 19 مارچ 2000ء کو ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ گئے تھے۔ ان کا شمار اردو کے صفِ اوّل کے مزاح نگاروں میں کیا جاتا ہے۔

شفیق الرّحمٰن 9 نومبر 1920ء کو کلا نور ضلع روہتک میں پیدا ہوئے تھے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد برطانوی دور میں انڈین آرمی کے شعبہ طب سے وابستہ ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاک فوج کا حصّہ بنے اور میجر جنرل کے عہدے تک ترقّی پائی۔

شفیق الرّحمٰن کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ شگوفے 1943ء میں پہلی مرتبہ شایع ہوا۔ بعد میں دیگر کتب لہریں، مدوجزر، پرواز، حماقتیں، پچھتاوے، مزید حماقتیں، دجلہ، کرنیں اور دریچے شایع ہوئیں اور انھیں‌ ملک گیر شہرت اور پذیرائی ملی۔ ایک ناولٹ اور افسانوں کے مجموعے کے علاوہ ان کے ترجمہ کردہ ناول بھی کتابی صورت میں سامنے آئے، معاشیات اور صحّت و امراض سے متعلق بھی ان کی کتب شایع ہوئیں۔

ڈاکٹر شفیق الرّحمٰن کی وجہِ شہرت تو ان کی مزاح نگاری ہے، لیکن ان کے رومانوی افسانے بھی مشہور ہیں۔

وہ پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد 1980ء سے 1986ء تک اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ حکومتِ پاکستان نے وفات کے بعد انھیں ہلالِ امتیاز سے سرفراز کیا تھا۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کو راولپنڈی کے فوجی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں