The news is by your side.

Advertisement

عالمِ دین، شعلہ بیاں مقرر شاعر اور مصنّف مولانا ظہورُ‌الحسن درس کا یومِ وفات

مولانا ظہورُ الحسن اسلامیانِ ہند کے خیر خواہ اور ایسے راہ نما تھے جنھوں نے تحریکِ پاکستان اور مسلم لیگ کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ انھیں قائدِ اعظم محمد علی جناح نسبتِ خاطر رہی۔ وہ ایک باکردار، جرأت مند، کھرے اور سچّے انسان مشہور تھے۔

مولانا ظہورُ‌الحسن عالمِ دین اور شعلہ بیاں خطیب ہی نہیں شاعر اور متعدد کتب کے مصنّف بھی تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔

وہ 9 فروری 1905ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ظہورُ الحسن کے والد بھی اپنے وقت کے جیّد و نام وَر عالمِ دین تھے۔ مولانا نے اپنے بزرگوں کے قائم کردہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔

مولانا ظہور الحسن درس نے بھی اپنے والد کی طرح عالمِ دین بننے کے بعد مسلمانوں کی دینی تعلیم و تربیت اور راہ نمائی میں مشغول ہوگئے۔ انھوں نے بعد میں بندر روڈ کراچی میں واقع عید گاہ میں ہر جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں‌ امامت و خطابت کی اور اپنے علم سے لوگوں کی راہ نمائی اور فکروعمل سے ان کے لیے مثال بنے۔

بندر روڈ کا عید گاہ میدان، برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں 11 اکتوبر 1938ء کو صوبائی مسلم لیگ کانفرنس قائد اعظم محمد علی جناح کی زیرِ صدارت اسی میدان میں منعقد ہوئی تھی۔ 15 اکتوبر 1939ء کو علامہ درس کی کاوشوں سے اسی جگہ ایک تاریخی جلسہ بھی منعقد ہوا جس میں پاک و ہند سے صفِ اوّل کے راہ نماؤں اور علما نے شرکت کی۔ 15 دسمبر 1941ء کو اسی عید گاہ میں علامہ ظہور الحسن درس کی صدارت میں کراچی مسلم لیگ کانفرنس منعقد ہوئی۔

قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی نمازِ جمعہ و عیدین کا سب سے بڑا اجتماع اسی عید گاہ میدان میں ہوا کرتا تھا اور یہ علامہ درس کی سحر انگیز شخصیت کا کمال تھا کی لوگ دور دراز کے علاقوں سے آتے اور ان اجتماعات میں شرکت کرتے۔

قیام پاکستان کے چند دن بعد 18 اگست 1947ء کو عید الفطر کے موقع پر نمازیوں کا ایک عظیم الشّان اجتماع اسی عید گاہ میں ہوا، جس میں قائدِاعظم محمد علی جناح، نواب زادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرّب نشتر، خواجہ ناظم الدین، راجہ غضنفر علی خان، حسین شہید سہروردی و دیگر اہم حکومتی شخصیات اور اکابرینِ ملت نے مولانا درس کی اقتدا میں نمازِ عید ادا کی اور خطبہ سنا۔

مولانا ظہور الحسن درس 14 نومبر 1972ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ وہ قبرستان مخدوم صاحب، کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں