The news is by your side.

Advertisement

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کی چہیتی بیٹی زیبُ النساء کا تذکرہ

ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب نے اپنی پہلی اولاد کا نام زیبُ النساء رکھا تھا جسے مؤرخین نے عالم فاضل اور فارسی زبان کی شاعرہ لکھا ہے۔ آج زیبُ النساء کا یومِ‌ وفات ہے۔ وہ علم و ادب کی دلدادہ اور قدر دان تھی۔

1638 زیبُ النساء کی ولادت کا سنہ ہے جس کی ماں جس کا نام دلرسن بانو بیگم تھا۔ زیبُ النساء نے جس قسم کی تعلیم پائی تھی اور خود اس کا مذاق طبیعت جس قسم کا واقع ہوا تھا، اس کے لحاظ سے وہ سیاست سے بالکل نا آشنا تھی، تاہم عالمگیر کے پُرپیچ عہدِ حکومت میں وہ بھی اس بدنامی سے نہ بچ سکی۔ زیبُ النساء نے شادی نہیں کی۔ عالمگیر زیب النساء کی نہایت عزت کرتا تھا۔ جب وہ کہیں باہر سے آتی تھی تو اس کے استقبال کے لیے شہزادوں کو بھیجتا تھا۔ سفر و حضر میں اس کو ساتھ رکھتا تھا۔ کشمیر کے دشوار سفر میں بھی وہ ساتھ تھی۔

زیب النساء نے دلّی میں قیام کیا اور وہیں پیوندِ زمین ہوئی۔ عالمگیر اس زمانے میں دکن کی فتوحات میں مصروف تھا۔ یہ خبر سن کر سخت غم زدہ ہوا۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکلے اور باوجود انتہا درجہ کے استقلال مزاج کے صبر کی تاب نہ لا سکا۔ سیّد امجد خاں، شیخ عطاء اللہ اور حافظ خان کے نام حکم صادر ہوا کہ اس کے ایصال ثواب کے لیے زکوٰۃ و خیرات دیں۔ اور مرحومہ کا مقبرہ تیار کرائیں۔

تمام مؤرخین نے بہ تصریح لکھا ہے کہ زیب النساء علومِ عربیہ اور فارسی زبان دانی میں کمال رکھتی تھی۔ زیب النساء نے قرآنِ مجید حفظ کیا تھا۔ نستعلیق، نسخ اور شکستہ خط نہایت عمدہ لکھتی تھی۔ لیکن اس کی تصنیفات سے آج کوئی چیز موجود نہیں۔ عام طور پر مشہور ہے کہ وہ مخفی تخلص کرتی تھی۔ اور دیوان مخفی جو چھپ کر شائع ہو چکا ہے اسی کا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ کسی تاریخ یا تذکرہ میں اس کے تخلص یا دیوان کا ذکر نہیں۔

اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ وہ شاعر تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کلام ضائع ہوگیا۔زیب النساء کی تصنیفات و تالیفات سے زیب المنشات کا ذکر البتہ تذکروں میں آیا ہے۔ تذکرہ الغرائب کے مصنف نے لکھا ہے کہ میں نے اس کو دیکھا ہے، زیب النساء کے خطوط اور رقعات کا مجموعہ ہے۔

زیبُ النساء نے خود کوئی تصنیف کی ہو یا نہ کی ہو لیکن اس نے اپنی نگرانی میں اہلِ فن سے بہت سی عمدہ کتابیں تصنیف کرائیں۔ زیب النّساء دِیدہ زیب عمارات تعمیر کروانے کی بے حد شوقین تھی۔ شہزادی نے لاہور اور دہلی میں کئی عمارات تعمیر کروائیں۔ مؤرخین کے مطابق لاہور میں واقع چوبرجی باغ اور اپنا مقبرہ اس نے خود تعمیر کروایا تھا۔ مقبرے کی تعمیر میں سنگِ سُرخ اور سنگِ مرمر استعمال کیا گیا، جب کہ اس میں خالص سونے کا کلس بھی نصب تھا۔

شہزادی کی ایک ذاتی لائبریری بھی تھی، جس میں قدیم زمانے کے عربی مخطوطات بھی موجود تھے، جن کا اس نے فارسی میں ترجمہ کروایا۔

1702 میں‌‌ آج ہی کے دن شہزادی نے یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی تھی۔ شہزادی کی آخری آرام گاہ پر مؤرخین میں اختلاف ہے اور چند کا خیال ہے کہ وہ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں اور بعض نے لکھا ہے کہ لاہور میں ملتان روڈ پر واقع مقبرہ زیب النّساء کا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں