The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین کے ٹرائل میں رضاکار کی ہلاکت افواہ قرار

لندن:محکمہ صحت نے ویکسین ٹرائل کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کو افواہ اور حقائق سے سراسر غلط قرار دے دیا۔

برطانیہ میں سوشل میڈیا پر افواہ گردش کر رہی ہے کہ ویکسین ٹرائل کے لئے خود کو پیش کرنے والے پہلے رضاکار کی ویکسین کی وجہ سے موت واقع ہو گئی ہے۔

محکمہ صحت نے وضاحت کی ہے کہ یہ افواہ سراسر جھوٹ ہے۔

محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سوشل میڈیا پر چیزیں شئیر کرتے وقت تحقیق کر لیں۔ جمعرات کے روز سے برطانیہ میں انسانوں پر ویکسین کی آزمائش کی جا رہی ہے اور سائنسدان اس حوالے سے خاصے پرامید ہیں۔

انسانوں پر ویکسین کی آزمائش کا مرحلہ آج سے بیک وقت تین اداروں میں شروع ہو گیا ہے جس کے لیے 18 سے 55 سال تک کے 500 افراد کا سخت اسکریننگ کے بعد انتخاب کیا گیا ہے۔

ان افراد نے آن لائن درخواست جمع کروا کر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں، آزمائش میں حصہ لینے والے افراد کے لیے مکمل صحت مند ہونے کی شرط رکھی گئی ہے، ان میں کسی قسم کی الرجی، کینسر یا کورونا وائرس کی علامات بالکل نہیں ہونی چاہیئں۔

تحقیق کاروں کا منصوبہ ہے کہ وہ اس آزمائش کے لیے ایک ہزار سے زائد افراد کو رجسٹرڈ کریں گے جنہیں دو گرپوں میں تقسیم کر کے الگ الگ قسم کی ویکسین لگائی جائیں گی۔

ٹرائل میں حصہ لینے والوں کو متعدد بار ریسرچ سینٹر بلایا جائے گا اور انہیں سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ دیگر اخراجات کے لیے 625 پاؤنڈ تک فراہم کیے جائیں گے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور امپیریل کالج کو کورونا ویکیسن کی ریسرچ کے لیے مزید 41ملین فنڈز کی توثیق کی گئی ہے جس کا مقصد ویکسین کے تحقیقی مرحلے کو جلد از جلد مکمل کرنے کو یقینی بنانا ہے۔

دونوں تحقیقی ٹیمیں بڑی محنت اور پرجوش انداز میں کام کر رہی ہیں۔

اس حوالے سے سیکرٹری صحت میٹ ہین کاک نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کامیاب تحقیق کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے اور ویکسین کی مینوفیکچرنگ میں بھی سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی ایجاد میں پہلا ملک کہلوانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے جب کہ آئندہ ستمبر تک ویکسین کی ایک ملین ڈوز تیار کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں