The news is by your side.

Advertisement

“چین سے پاکستانی طلبا کو واپس نہ لانے کا فیصلہ درست ثابت ہو رہا ہے”

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کے لئے پاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانامشکل فیصلہ تھا اور وقت ثابت کررہاہےحکومت نے درست فیصلہ کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی زلفی بخاری سے چین میں موجود پاکستانی طلبہ کے والدین نے ملاقات کی اور طلبا کی مشکلات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستانی طلبہ چین میں زیادہ توجہ کا مرکز ہیں، دنیا گواہ ہےچین کوروناوائرس سےبہترین طریقے سے لڑ رہا ہے، چین واحد ملک ہےجہاں کورونا وائرس کم ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئےپاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانا مشکل فیصلہ تھا مگر اب وقت ثابت کر رہا ہےحکومت کا فیصلہ درست تھا، آپ سے وعدہ کیا ہے چین میں بچوں کا خیال رکھیں گے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ 1179میں سے993 بچوں کومالی مدد بھیج دی گئی ہے، 935بچوں نے رقوم کی وصولی کی تصدیق کردی ہے،1179طلبہ کیلئے15دن کا امدادی سامان کل روانہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں پھنسے طلبا کو پاکستانی کھانا بھیجنے کا فیصلہ

ملاقات میں والدین نے چین میں پاکستانی طلبہ کیلئے ادویات کی عدم فراہمی کی شکایات کی جس پر زلفی بخاری نے ادویات کی فراہمی یقینی بنانےکی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ ہفتےتک تمام طلبہ کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

قبل ازیں وفاق نے چین کے شہر ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبا کو پاکستانی کھانا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ووہان میں مقیم پاکستانوں کے لیے تیار کھانا ارسال کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ووہان میں موجود طلبا سمیت ہر پاکستانی شہری کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دفتر خارجہ اور فارن مشن چین میں موجود ہم وطنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں