The news is by your side.

Advertisement

سرپہ باندھے کفن آگے بڑھے صف شکن

قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں، یہ دن اپنی مٹی کے فرزندوں سے وطن کی حفاظت کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں، ماؤں سے ان کے جگر گوشے اور بوڑھے باپوں سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کامطالبہ کرتے ہیں۔

قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن رزم گاہ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں ،آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں، کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا تھا جب بھارت نے پانچ اور چھ ستمبر 1965ء کی درمیانی شب پاکستان پر شب خون مارا تھا، بھارتی جرنیلوں کا خیال تھا کہ وہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتہ لاہور جیم خانہ میں کریں گے لیکن انہیں پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور پاکستانی قوم کے جذبے کا درست اندازہ نہیں تھا ۔ افواج پاکستان اور عوام نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا اورسروں پر کفن باندھ کر دشمن کے مد مقابل ڈٹ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔

وہ جنگ جو بھارتی فوج ایک رات میں ختم کرنے کے ارادے رکھتی تھی تئیس ستمبر یعنی سترہ روز تک جاری رہی اور اس جنگ میں بھارت کو چھ سو سے زائد ٹینکوں اور ساٹھ طیاروں اور دیگر فوجی سازو سامان سمیت بے پناہ جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کے سب سے بڑی لڑائی اسی جنگ میں لڑی گئی جس میں میجر عزیز بھٹی شہید کانام سنہرے حروف سے لکھ جائے گا تو دوسری جانب فضائی معرکے میں دنیا کا کوئی ملک محمد محمود عالم جیسا شاہین پید انہیں کرسکا جس نے ایک منٹ کے قلیل عرصے میں بھارت کے پانچ جہاز مار گرائے اور ان میں سے بھی چار پہلے تیس سیکنڈ کے قلیل عرصے میں گرائے گئے ۔ آج تک دنیا کا کوئی ہوا باز اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکا۔

جب بھارت اس جنگ میں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا اور اپنے بیشتر علاقے پاکستان کے ہاتھوں گنوا بیٹھا تو جارح اپنی جان چھڑانے کے لئے اقوام ِ متحدہ میں پہنچ گیا اور جنگ بندی کی اپیل کی، اقوام ِ متحدہ کی مداخلت پر پاکستان عالمی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنی افواج کو واپس چھ ستمبر 1965 والی پوزیشن پر لے آیا۔

اس جنگ میں جہاں پاک فوج نے لازاوال قربانیاں دے کر دفاع ِ وطن کو ناقابل ِ تسخیر بنایا وہیں عوام بھی اپنی افواج کے شانہ بشانہ جنگ میں شامل تھی اور عام لوگوں نے اسپتالوں میں اور فوج کے لئے سپلائی جمع کرنے کے لئے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات انجام دیں اور شہری دفاع کا منظم محمکہ نہ ہونے کے باوجود بھارت کی جانب سے ہونے والے نقصانات کا سد باب بھی کیا اور بر وقت امدادی کاروائیاں بھی جاری رکھیں۔

چھ ستمبر کا دن پاکستانیوں کی رگوں میں لہو کو گرما دیتا ہے اوراس دن ہونے والی تقریبات بھی اپنے شہیدوں سے ایفائے عہد کے لئے منعقد کی جاتی ہیں۔ اس سال حکومت اور افواجِ پاکستان نے آج کے دن کو یوم دفاعِ کشمیر کےعنوان سے منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد بھارتی غاصب افواج کے جبر کا نشانہ بنے نہتے کشمیری شہریوں سے اظہارِ یکجہتی اور انہیں یقین دلانا ہے کہ حکومت عوام اور پاک فوج آخری سانس تک ان کے ساتھ ہیں۔

آج جی ایچ کیو میں ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سالار جنرل قمر باجوہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کی خاطر آخری گولی ، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے۔ پاکستان اس وقت کشمیر کے لیے سفارتی جنگ لڑرہا ہے اور اقوام عالم کے سامنے بھارتی مظالم کو آشکار کررہا ہے ، یہ پاکستان کی جانب سے امن پسندی کی واضح دلیل ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جنگ مسلط کردی جائے تو ہم جواب دینے میں چوکتے نہیں ہیں بلکہ اپنی مرضی کے وقت اور میدان میں جواب دیا جائے گا۔

رواں برس 27 فروری کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کے د وطیارے گرا کر اور ایک پائلٹ کو قبضے میں لے کر ایک بار پھر سنہ 1965 کی یادیں تازہ کردی تھیں اور دشمن کو واضح جواب دیا تھا کہ ہم وہی سیسہ پلائی دیوار ہیں جو سنہ 1965 میں تھی بلکہ 18 سال دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ہمیں مزید کندن بنادیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں