The news is by your side.

یکم جنوری کو دہلی کی سڑک پر انجلی سنگھ کے ساتھ کیا ہوا؟

نئی دہلی: جب نئے سال کا سورج طلوع ہو رہا تھا، تب بھارتی دارالحکومت کی ایک سڑک پر شیطانی اندھیرے نے سیاہی پھیلا دی، ایک 20 سالہ لڑکی کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے لوگوں کے دل دہلا دیے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کا نام انجلی سنگھ تھا، امن وہار کی رہنے والی یہ لڑکی اپنی والدہ، 4 بہنوں اور 2 چھوٹے بھائیوں کی واحد کفیل تھی، کیوں کہ والد کی 8 برس قبل موت ہو گئی تھی، یکم جنوری کو انجلی سنگھ کی لاش دہلی کی ایک سڑک پر بدترین تشدد زدہ اور برہنہ حالت میں ملی۔

انجلی ایونٹ منیجمنٹ کمپنی میں کام کرتی تھی، وہ سال نو پر اپنی ڈیوٹی ختم کر کے اپنی اسکوٹی پر گھر جا رہی تھی، اچانک اس کو بلینو گاڑی میں سوار نشے میں دھت رئیس زادوں نے ٹکر مار دی اور پھر 13 کلو میٹر تک اسے گھسیٹتے لے گئے۔ کار سواروں نے اس بات کی پروا کیے بغیر کہ انجلی کا جسم کار کے ایک پہیے میں پھنس گیا ہے، وہ لڑکی کو سلطان پوری سے کنجھا والا تک 13 کلو میٹر تک گھسیٹ کر لے گئے، اور اس دوران اس کے کپڑے پھٹ گئے اور وہ برہنہ ہو گئی۔

میڈیکل رپورٹ

مولانا آزاد میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں پر مشتمل پینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طویل راستے تک گھسیٹے جانے کی وجہ سے انجلی سنگھ کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا، اس کے سینے کی ہڈیاں اور پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

انجلی کو بدترین حالت میں اسپتال لایا گیا تھا، اس کے دماغ کا بہت سا حصہ راستے ہی میں کہیں غائب ہو گیا تھا، جب کہ پھیپھڑوں کا بھی کافی سارا حصہ جسم سے الگ ہو کر غائب ہو چکا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑکی سے جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔

پولیس کو کال

دہلی پولیس نے جان لیوا حادثے کے بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ یکم جنوری کی صبح تقریباً 3:24 بجے پی ایس کنجھاوالا (روہنی ضلع) میں پی سی آر کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے کہا کہ ایک سرمئی رنگ کی بلینو کار جو قطب گڑھ کی طرف جا رہی تھی، اس کے پہیے میں ایک عورت کا جسم اٹکا ہوا ہے۔ فون کرنے والے نے پولیس کو گاڑی کا رجسٹریشن نمبر بھی بتایا۔

پولیس کے مطابق ایک گھنٹہ بعد صبح تقریباً 4:11 بجے کنجھاوالا پولیس کو ایک اور پی سی آر کال موصول ہوئی، جس میں ایک لڑکی کی لاش سڑک پر موجود ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور دیکھا کہ لڑکی کی برہنہ لاش سڑک پر پڑی ہوئی ہے۔ جس پر لاش کو ایس جی ایم اسپتال منگول پوری بھیجا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے خاتون کی موت کی تصدیق کی۔

پولیس نے کار کا سراغ لگایا اور تحقیقات کے بعد گاڑی میں سوار 5 افراد کی شناخت کرنے میں کامیابی حاصل کی، اور انھیں گرفتار کر کے ان کے خلاف تیز رفتاری اور لاپرواہی سے موت کا سبب بننے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔

جنسی زیادتی؟ کار سوار کون تھے؟

مقتولہ کے اہل خانہ نے پولیس کی رپورٹ پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ ماننے سے انکار کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ جنسی زیادتی کا کیس ہے، تاہم نئی دہلی پولیس نے انجلی سنگھ سے زیادتی کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

انجلی کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جب کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی کہا کہ پولیس حادثے کے ملزمان بی جے پی کے رہنما کو مدد فراہم کر رہی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے ترجمان سوربھ بھردواج نے دعویٰ کیا کہ ایک ملزم منوج متل بی جے پی لیڈر ہے، پولیس اس معاملے میں فوری کارروائی نہ کر کے مبینہ بی جے پی لیڈر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کیس کی تفتیش

اس خوف ناک واقعے میں دہلی پولیس کی تحقیقات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، تفتیش کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ واقعے کے 36 گھنٹے بعد پولیس کو پتا چلا کہ متاثرہ لڑکی حادثے کے وقت اکیلی نہیں تھی۔

عوام اس بات پر حیران ہیں کہ سال نو کے پہلے دن پر سڑکوں پر شدید گہما گہمی تھی، سڑکوں پر لوگوں اور گاڑیوں کا رش تھا، 18 ہزار پولیس اہل کار سڑکوں پر تعینات تھے، ایسے میں گاڑی کی ایکسل سے الجھی ایک لاش دس سے تیرہ کلو میٹر تک گھسیٹی گئی، اور کوئی سیکیورٹی اہل کار متوجہ نہ ہو سکا۔ یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ پی سی آر کی پہلی کال کے بعد لاش ملنے میں 2 گھنٹے کیوں لگے؟

ایف آئی آر

ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ اتوار، یکم جنوری کی صبح تقریباً 2 بجے پیش آیا، پانچوں میں سے ایک ملزم نشے میں تھا، حادثے کے بعد وہ کانجھا والا کی طرف بھاگے۔ جائے حادثہ سے فرار ہونے کے بعد، انھوں نے کانجھا والا روڈ پر جونتی گاؤں کے قریب کار روکی، جہاں انھوں نے متاثرہ کی لاش کار کے نیچے پھنسی ہوئی پائی۔

دیپک نے پولیس کو بتایا کہ وہ گاڑی چلا رہا تھا، جب کہ منوج متل اس کے ساتھ بیٹھا تھا، پچھلی سیٹ پر متھن، کرشن اور امیت بیٹھے تھے۔ لاش کو دیکھ کر وہ ڈر گئے تھے اور مرنے والی لڑکی کو وہیں چھوڑ دیا، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بعد میں، انھوں نے کار کو اس کے مالک کے گھر پر کھڑا کیا اور اپنی اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں