The news is by your side.

Advertisement

انتظار قتل کیس میں اہم پیش رفت، تین انسپکٹرز سمیت آٹھ اہل کار برطرف

کراچی: انتظار قتل کیس میں‌ تین انسپکٹرز سمیت آٹھ پولیس اہل کاروں‌ کو برطرف کر دیا گیا. برطرف کئے جانے والوں میں انسپکٹرطارق رحیم، انسپکٹرطارق محمود اور انسپکٹر اظہر حسین  شامل ہیں.

اے آر وائی کے نمائندے سلمان لودھی کے مطابق انتظار قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے. حکومتی نوٹی فکیشن کے مطابق کیس کے ذمے داران میں شامل تین انسپکٹرز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا.

نوٹی فکیشن میں‌ موقف اختیار کیا گیا کہ دوران تفتیش انتظارکی گاڑی پرفائرنگ کو کسی صورت درست قرارنہیں دیا جا سکتا، یہ عمل قانون کے منافی تھا. گاڑی کا تعاقب کیا جاسکتا تھا۔

نوٹی فیکشن کے مطابق پولیس اہل کار فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے تھے، سادہ لباس پولیس اہلکاروں نےفائرنگ بھی ذاتی ہتھیارسے کی تھی، جو ایس اوپی کے خلاف ہے اور ناقابل قبول ہے۔


انتظارقتل کیس:‌وزیراعلیٰ کی ہدایت پرنئی جےآئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری


یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس میں انتظار قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جب اینٹی کار لفٹنگ فورس (اے سی ایل سی) کے چار اہل کاروں نے نامعلوم کار پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ملائشیا سے آنے والا انتظار نامی نوجوان جاں بحق ہو گیا تھا۔

خبر میڈیا میں آنے کے بعد اس پر شدید ردعمل آیا، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، مگر انتظار کے والد نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا. فروری میں‌ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرنئی جےآئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا.


انتظار کیس : مدیحہ کیانی کے بیان پر جے آئی ٹی کا دوبارہ تفتیش کا فیصلہ


مارچ کے اوائل میں واقعے کی عینی شاہد مدیحہ کیانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جسے کیس کی تفتیش میں‌ اہم موڑ قرار دیا گیا تھا. اس ویڈیو کے بعد کیس میں‌ چند نئے نام سامنے آئے، البتہ بعد میں‌ مدیحہ کیانی نے بیان دیا کہ اُنھوں‌ نے انتظار کے اہل خانہ کے دبائو میں‌ یہ ویڈیو بنائی تھی، یوں تفتیش عمل پھر ڈیڈلاک کا شکار ہوگیا.

البتہ اب اس کیس میں‌ اہم پیش رفت ہوئی ہے، دو انسپکٹرز سمیت آٹھ اہل کاروں کو معطل کر دیا گیا ہے.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں