The news is by your side.

Advertisement

ڈیکسا میتھاسون نے کرونا مریض کی جان بچا لی

لندن: برطانوی طبی ماہرین کی جانب سے کرونا کے خلاف جنگ میں موثر قرار دی جانے والی دوا ڈیکسا میتھاسون نے معمر شخص کی جان بچالی۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں کرونا وائرس کو شکست دینے والے 69 سالہ معمر شخص نے بتایا کہ جب انہیں اسپتال لایا گیا تو ان کی طبعیت شدید ناساز تھی اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا، ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں فوراََ آکسیجن لگائی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹر ہیرنگ کا کہنا تھا کہ مجھے ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض لاحق تھے اور 15 سال پہلے مجھے آنتوں کا بھی کینسر تھا، جس کی وجہ سے میں بہت پریشان بھی تھا۔

معمر شخص نے بتایا کہ ایڈن بروک اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈیکسا میتھاسون نامی دوا دینے کے بعد نہ صرف مجھے سانس لینے میں آسانی ہوئی بلکہ میری آکسیجن بھی ہٹا دی گئی،مذکورہ دوا سے میں ایک ہفتے کے اندر مکمل صحت یاب ہوگیا۔

کرونا کو شکست دینے والے پیٹر ہیرنگ نے اسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں خود کو خوش قسمت محسوس کرتا ہوں کہ مجھے ڈیکسا میتھاسون نامی دوا دی گئی۔

پیٹر کی صحتیابی کے حوالے سے پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے سائنسدانوں کی جانب سے کرونا علاج کے لیے دریافت کی جانے والی دوا ڈیکسا میتھاسون کی تعریف کی۔

بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

یاد رہے کہ گزشتہ روز برطانیہ کے سائنسدانوں نے اسٹیرائیڈ دوا ڈیکسا میتھاسون کو کرونا وائرس کے علاج میں انتہائی موثر قرار دیا تھا۔ برطانوی سائنسدان پروفیسر پیٹر ہاربے کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کی پہلی دوا ہے جس نے کرونا میں اموات کو کم کر کے دکھایا ہے اور یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں